مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 683
683 سردار ہوں اور یہ فخر نہیں ہے ) أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (مسلم بحوالہ مشکوۃ اصح المطابع صفحه له باب فــضــائـل سـيـد المرسلين صلی اللہ علیہ وسلم ) میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔پھر فرمایا: - أَنَا اِمَامُ النَّبِيِّينَ آنَا سَيِّدُ النَّبِيِّينَ» (فردوس الاخبار دیلمی صفحہ ۳۳۱ جلد ۳ نیا ایڈیشن ) میں تمام نبیوں کا امام ہوں۔میں تمام نبیوں کا سردار ہوں۔۴۔اس ضمن میں حجتہ اللہ البالغہ (حضرت سید شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی ) کا مندرجہ ذیل حوالہ فیصلہ کن ہے:۔اعْلَمُ أَنَّ النَّسْخَ قِسُمَان اَحَدُهُمَا أَنْ يَنظُرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الارْتِفَاقَاتِ اَوْ وُجُوهِ الطَّاعَاتِ فَيَضْبِطَهَا بِوُجُوهِ الضَّبْطِ عَلَى قَوَانِينِ التَّشْرِيعِ وَهُوَ إِجْتِهَادُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَا يُقَرِّرُهُ اللَّهُ عَلَيْهِ بَلْ يَكْشِفُ عَلَيْهِ مَا قَضَى اللَّهُ فِي الْمَسْئَلَةِ مِنَ الْحُكْمِ اَمَّا بِنُزُولِ الْقُرْآنِ حَسَبَ ذَالِكَ أَوْ تَغْسِيرِ اجْتِهَادِهِ إِلَى ذَالِكَ وَتَقْرِيرِهِ عَلَيْهِ مِثَالُ الْاَوَّلِ مَا أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِسْتِقْبَالِ قِبَلَ بَيْتِ الْمُقَدَّسِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ بِنَسْخِهِ وَ مِثَالُ الثَّانِى أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْاِنْتِبَاذِ إِلَّا فِي السَّقَاءِ ثُمَّ اَبَاحَ لَهُمُ الانْتِبَاذَ فِى كُلِّ انِيَّةٍ۔۔۔وَعَلَى هَذَا التَّخْرِيحِ هَذَا مِثَالُ لِاخْتِلَافِ الْحُكْمِ حَسَبُ اِخْتِلَافِ الْمُظَنَّاتِ وَفِى هَذَا الْقِسْمِ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامِي لَا يَنْسَخُ كَلَامَ اللهِ وَ كَلَامُ اللهِ يَنْسَخُ كَلَامِی» (حجة اللہ البالغۃ مترجم جلد اصفحہ ۲۳۷ صفحه ۲۳۸ باب اسباب النسخ) اس عربی عبارت کا ترجمہ بھی اسی کتاب سے نقل کیا جاتا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں:۔جاننا چاہیے کہ نسخ کی دو قسمیں ہیں (۱) یہ کہ پیغمبر امور نافع اور عبادات کے طریقوں میں خوض کر کے شریعت کے قوانین کے ڈھنگ پر ان کو کر دیتے ہیں۔ایسا آنحضرت کے اجتہاد سے ہوا کرتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ اس حکم و اجتہاد کو باقی نہیں رکھتا بلکہ اس حکم کو آنحضرت پر ظاہر کر دیتا ہے جو خدا نے اس مسئلہ کے متعلق قرار دیا ہے اس حکم کا اظہار یا یوں ہوتا ہے کہ قرآن میں وہ وار د کیا جائے یا اس طرح پر کہ آنحضرت کے اجتہادہی میں تبدیلی ہو جائے اور دوسرا اجتہاد آپ کے ذہن میں قرار پا جائے۔پہلی صورت کی مثال یہ ہے کہ آنحضرت نے نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا تھا پھر قرآن