مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 648 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 648

648 ہے۔پس نفس شعر بلحاظ کلام موزوں کے بری چیز نہیں۔ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شعر نہ کہتے اور نہ پڑھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے نیز حضرت اقدس علیہ السلام کا الہام ہے:۔در کلام تو چیزی است که شعراء را دراں دخلی نیست ۲۔غلط حوالے اور جھوٹ کے الزامات ( در شین اردو نیا ایڈیشن صفحه ۸۳) تذکره صفحه ۵۰۸ مطبوع ۲۰۰۴ء) مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں بعض حوالے غلط دیے ہیں مثلاً " هـذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ، بخاری میں نہیں ہے۔الجواب :۔نبی کو ہم سہو اور نسیان سے پاک نہیں مانتے۔ا۔قرآن میں ہے:۔فَنَسِی (طه: ۱۱۶) کہ آدم بھول گیا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق نَيَا حُوتَهُمَا “ (الکھف: ۶۲) کہ وہ مچھلی بھول گئے اور آگے لکھا ہے کہ شیطان نے انہیں بھلا دیا۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف: ۱) نيز أُصِيبُ وَ أُخْطِيءُ ( نبراس شرح الشرح لعقائد نسفی صفحہ ۳۹۳) کہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں۔بعض دفعہ خطا کرتا ہوں۔۲۔بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو (۲) رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا " وَ رَجُلٌ يَدْعُوهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَنَسِيْتَ اَمُ قُصِرَتْ؟ فَقَالَ لَمُ اَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرُ قَالَ بَلَى قَدْ نَسِيْتَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔“ دوسری روایت میں ہے فَقَالَ اَ كَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ فَقَالُوا نَعَمُ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ ( بخاری کتاب السهو باب يكبر في السجدتي السهو وباب تشبيك الاصابع في المسجد وغیرہ ) کہ ایک شخص وہاں موجود تھا جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کے نام سے پکارا کرتے تھے۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز قصر کر کے حضور نے پڑھی ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ نماز