مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 647 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 647

647 ہوں۔پس اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا۔کیونکہ شعر سے مراد ”جھوٹ“ لی جاتی ہے اور شاعر کے معنے ہیں’ کا ذب‘ (جھوٹا ) عربی ضرب المثل ہے کہ سب سے اچھا شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو۔(۳) منطق کے امام علامہ شریف کہتے ہیں۔وَالشّعُرُ۔۔۔إِنَّ مَدَارَهُ عَلَى الْاَ كَاذِيبِ وَمِنْ ثَمَّةٍ قِيْلَ اَحْسَنُ الشَّعْرِ اَكْذَبُهُ الحافية الكبرى على شرح المطابع صفہ یہ ے ے مصری ) کہ شعر کا مدار جھوٹ پر ہوتا ہے اور ضرب المثل میں ہے کہ سب سے اچھاوہ شعر ہے جس میں بہت جھوٹ ہو۔(۴)۔قرآن مجید میں ہے وَ مَا عَلَّمْتُهُ الشَّعْرَ “ (بس : ۷۰) کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر نہیں سکھایا۔اب اگر شعر سے مراد کلام موزوں لیا جائے تو یہ غلط ہے کیونکہ قرآن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا گیا ہے اس میں کلام موزوں بھی ہے جیسا کہ یہ آیت :۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل: ۸۲) (۵)۔حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقعہ پر فرمایا:۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ (بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى وَيَوْمَ حُنَيْنٍ۔۔۔۔۔کہ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔“ اب وزن کے لحاظ سے یہ بحر رجز محذوف ہے اور قافیہ بھی ملتا ہے۔۔پھر حدیث شریف میں ہے کہ ایک جنگ کے موقعہ پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلی پر زخم آگیا تو آپ نے اس انگلی کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھا۔ے هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيْتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَالَقِيتِ (بخاری کتاب الجهاد والسير باب من ينكب او يَطْعِنُ في سبيل الله) کہ سوائے اس کے نہیں کہ تو ایک انگلی ہے جس میں سے کہ خون بہہ رہا ہے اور یہ جو کچھ تجھے ہوا خدا کی راہ میں ہوا ہے۔“ اب یہ بھی کلام موزوں ہے۔بس اگر شعر سے مراد کلام موزوں لیا جائے تو یہ بالبداہت باطل ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کی زد پڑتی ہے۔پس ثابت ہوا کہ شعر سے مراد جھوٹ ہی