مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 562
562 نہایت قابل اعتراض ہے وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ مندرجہ بالا رشتوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرنا حقیقی ہمشیرہ کے ساتھ نکاح کرنے کے مترادف ہے۔اس لئے آنحضرت نے جو اپنی پھوپھی کی لڑکی ( حضرت زینب) سے نکاح کیا وہ بھی نا جائز تھا۔سوخدا تعالیٰ نے ان کی بد کرداریوں اور نا فرمانیوں کے باعث ( جن کی تفصیل آگے آئے گی ) ان کو قوم صالح کی طرح ایک آخری حکم دیا کہ وہ (احمد بیگ ) اپنی لڑکی کا نکاح حضرت مسیح موعود سے کر دیں گے تو یہ نکاح قرآن مجید کی آیت كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: ۱۱۹) کے مطابق ( کہ صادقین کے ساتھ تعلق پیدا کرو ) موجب رحمت اور برکت ہوگا۔۲۔چونکہ حضرت اقدس کا رشتہ ان لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا تھا جس میں ہندووانہ رسوم کے ماتحت با ہمی نکاح کو وہ برا سمجھتے تھے، اس لئے خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے اسی امر کو چنا۔جس طرح آنحضرت کے زینب (مطلقہ زید) کے ساتھ نکاح کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لگی لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا (الاحزاب : ۳۸) کہ ہم نے یہ نکاح کیا تا کہ مومن اپنے متبوں کی مطلقہ بیویوں کے ساتھ نکاح کرنے کو برا نہ سمجھیں۔گویا اس بد رسم کو مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کا حضرت زینب سے نکاح کیا۔بعینہ اس جگہ بھی اسی امر کو چنا، تا ان کی اصلاح ہو اور یہ خیالات فاسدہ ان کے دماغ سے نکل جائیں۔۲۔تیسری حکمت اس میں یہ تھی کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو ان کی اصلاح مقصود تھی اور تاریخ اسلامی سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کے ساتھ جسمانی رشتہ لڑکی کے خاندان کی اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے جیسا کہ اُم حبیبہ بنت ابوسفیان اور سودہ بنت زمعہ کے آنحضرت کے نکاح میں آجانے کی وجہ سے ان کے خاندان حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اس لئے خدا تعالیٰ نے اتمام حجت کے لئے یہی آخری حکم مرزا احمد بیگ وغیرہ کو دیا۔مخالفین انبیاء کا شیوہ تکذیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو اپنی تمام شروط کے ساتھ لفظ لفظاً پوری ہوگئی جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں۔”ہم نے سلطان محمد کے بارے میں اس کی موت کی وجہ تاخیر علیحدہ اشتہار میں ایسے طور سے ثابت کر دی ہے جس کے قبول کرنے سے کسی ایماندار کو عذر نہیں ہوگا اور بے ایمان جو چاہے سو کہے یاد