مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 561 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 561

561 حصہ سوم پیشگوئیوں پر اعتراضات کے جوابات ا۔پیشگوئی متعلقہ مرزا احمد بیگ وغیرہ خدا تعالیٰ کی سنت قدیمہ:۔جب کوئی قوم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مستحق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو عذاب نازل کرنے سے قبل آخری اتمام حجت کے طور پر ایک حکم دیا کرتا ہے کبھی وہ حکم اپنی ذات میں نہایت معمولی ہوتا ہے مگر اس کی خلاف ورزی اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اسی قانون کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتَرَ فِيهَا فَفَسَتُوْا فِيهَا فَحَقَ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمرْنَهَا تدميران (بنی اسرائیل: ۱۷) کہ جب ہم کسی بستی کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو ایک حکم دیتے ہیں جس کی وہ نافرمانی کرتے ہیں۔پس ان پر فرد جرم لگ جاتا ہے اور ہم ان کو بالکل تباہ و بربادکر دیتے ہیں۔چنانچہ اسی قسم کی اتمام حجت کی ایک مثال سورۃ الشمس میں بیان فرمائی ہے۔فَقَالَ لھم رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ وَسُقَيْهَا فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَوْبَهَا (الشمس : ۱۵،۱۴) پس قوم ہود سے اللہ تعالیٰ کے نبی (صالح) نے فرمایا کہ خدا کی اس اونٹنی کا خیال رکھو، اور اس کا پانی بند نہ کرو۔پس انہوں نے اس کا انکار کیا اور انہوں نے اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیئے۔پس ان کو خدا تعالیٰ نے ان کے گناہ اور نا فرمانی کے باعث ہلاک کر دیا۔پس یہی سنت الہیہ تھی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ معاملہ کیا۔وہ لوگ ( جیسا کہ تفصیل آگے آئے گی ) خدا تعالیٰ کے منکر ، آنحضرت اور قرآن کے دشمن تھے، ہندو تہذیب اور ہندوانہ رسوم کا ان پر گہرا اثر تھا، جس طرح ہندوؤں کے ہاں اپنی گوت اور خاندان میں نکاح نا جائز سمجھا جاتا ہے اسی طرح وہ لوگ ( مرزا احمد بیگ وغیرہ ) بھی یہ خیال کرتے تھے کہ اسلام نے جو چا، ماموں اور خالہ کی لڑکی کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیا ہے۔یہ