مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 550 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 550

550 رَّبِّ الْفَعَالِ۔“ کہ مجھے رب قادر کی طرف سے مارنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے پھر اس پر اعتراض کیوں؟۔ہاں اگر کہو کہ مردے زندہ کرنا تو بے شک شانِ مسیحیت ہے مگر مارنے کی صفت تو پہلے مسیح میں نہ تھی ؟ تو اس کا جواب یہ کہ مسیح محمدی کو اللہ تعالیٰ نے دونوں صفتوں سے متصف فرمایا ہے جیسا کہ مسیح موعود کی صفت اہلاک کا ذکر حدیث نبوی میں بھی ہے کہ مسیح موعود کے دم سے دشمن ہلاک ہوں گے۔چنانچہ لکھا ہے:۔فَلا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ مِنْ رِيْحِ نَفْسِهِ إِلَّا مَاتَ “ ( مسلم ومرقاة (ملاعلی قاریؒ ) كتاب الفتن باب العلامات بين يدى الساعة و مشكوة باب العلامات بين کہ جس کا فرتک مسیح کا دم پہنچے گا۔وہ ہلاک ہو جائے گا۔يدى الساعة) چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سینکڑوں دشمن لیکھرام، آٹھم، ڈوئی،سعداللہ لدھیانوی وغیرہ آپ کے دم سے ہلاک ہوئے۔- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس ارشاد کا تم نے حوالہ دیا ہے وہ خطبہ الہامیہ میں ہے اور اسی خطبہ الہامیہ میں اس سے ذرا آگے چل کر حضرت اقدس علیہ السلام نے خود ہی اس کی تشریح کر دی ہے کہ مارنے اور زندہ کرنے سے کیا مراد ہے۔ملاحظہ ہو:۔إِبْدَائِي سِنَانٌ مُذَرَّبٌ۔وَدُعَائِي دَوَاءٌ مُجَرَّبٌ۔أرى قَوْمًا جَلَالًا۔وَقَوْمًا اخَرِينَ جَمَالًا وَبِيَدِى حَرْبَةٌ أَبِيدُبِهَا عَادَاتِ الظُّلْمِ وَالذُّنُوبِ۔وَفِي الْأُخْرَى شَرْبَةٌ أعِيْدُ بِهَا حَيَاةَ الْقُلُوبِ۔فَاسٌ لِلاِفْنَاءِ۔وَأَنْفَاسٌ لِلاحْيَاءِ۔“ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۶۱-۶۲) ترجمہ : ” مجھے تکلیف دینا ایک تیز نیزہ ہے اور میری دعا ایک مجرب دعا ہے میں ایک قوم کو اپنا جلال دکھاتا ہوں اور دوسری قوم کو جمال دکھاتا ہوں اور میرے ایک ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے جس کے ساتھ میں ظلم اور گناہ کی عادتوں کو ہلاک کرتا ہوں۔اور دوسرے ہاتھ میں ایک شربت ہے جس سے میں دلوں کو دوبارہ زندہ کرتا ہوں۔گویا ایک کلہاڑی فنا کرنے کے لئے ہے اور دم زندہ کرنے کے لئے۔“ اب دیکھو حضرت اقدس علیہ السلام نے اسی خطبہ الہامیہ میں زندہ کرنے اور مارنے کی صفت کی کس خوبی سے تشریح فرما دی ہے کہ مارنے سے مراد کفر۔گناہ اور ظلم کو مارنا ہے اور زندہ کرنے سے مراد