مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 549
549 ساری مرادیں تجھے دے گا۔رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔اگر مسیح ناصری کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جگہ اس سے برکات کم نہیں ہیں۔اور مجھے آگ سے مت ڈراؤ کیونکہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔لوگ آئے اور دعویٰ کر بیٹھے۔شیر خدا نے ان کو پکڑا۔شیر خدا نے فتح پائی۔“ اربعین نمبر ۳ ، روحانی خزائن جلدی اصفحه ۴۲۸ - ۴۲۹ و تذکره ۳۲۴٬۳۲۳ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ان الہامات میں انگریزوں کے ساتھ جماعت احمدیہ کے اچھے تعلقات کو لفظ ” تھا‘ (صیغہ ماضی) کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک زمانہ آئے گا جبکہ ان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگی۔اور موجودہ خوشگوار تعلقات ایک دن داستان ”عہد گذشتہ اور حکایات ماضی بن کر رہ جائیں گے۔ایک نہایت اہم اور تعجب انگیز تغیر ہو گا۔حکومت کی فوجیں اور احرار کے ادعائے باطل جماعت احمدیہ کو غم میں ڈالیں گے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جس طرح مسیح ناصری اور اس کی جماعت کو باوجود اس کے کہ حکومت وقت بھی ان کے خلاف ہوگئی تھی۔یہودی بھی ان کے خلاف سازش کر کے متحد ہو گئے تھے۔پھر بھی کامیاب و کامران کیا تھا۔اسی طرح اب بھی وہ جماعت احمدیہ کی مدد کرے گا اور اپنی بے پناہ آسمانی فوجوں سے جماعت کو منصور ومظفر بنائے گا۔اسی ضمن میں احرار اور دوسرے مخالفین احمدیت کی لاف و گزاف اور تعلیوں کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے دعوی کر دیا کہ وہ احمد بیت کو کچل کے رکھ دیں گے مگر خدا تعالیٰ کا شیر ( حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) انتہائی دلیری اور شجاعت اور اولوالعزمی کے ساتھ ان کا مقابلہ کرے گا اور ان کو شکست فاش دے گا۔اب دیکھ لو یہ کتنی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں جو آج سے ۴۵ سال قبل کی گئیں اور پھر یہ کس قدر خارق عادت طور پر پوری ہوئیں۔اور احرار کو کس قدر شکست فاش نصیب ہوئی۔کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے ا۔اُعْطِيتُ صِفَتَ الْإِفْنَاءِ وَ الْإِحْيَاءِ الجواب :۔۱۔حضرت اقدس کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا تھا۔پہلے مسیح کی صفت احیاء موٹی“ کو تو تم بھی مانتے ہو مگر اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے ہو۔پھر مسیح محمد می پر اعتراض کیوں؟ کیا پہلے مسیح کا قول قرآن مجید میں درج نہیں کہ اخي المولى بِاذْنِ الله “ کہ میں اللہ کے حکم سے مردے زندہ کرتا ہوں اور حضرت اقدس علیہ السلام بھی فرماتے ہیں کہ اُعْطِيتُ صِفَتَ الْإِفْنَاءِ وَ الْإِحْيَاءِ مِنْ