مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 532 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 532

532 کتاب دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۲۸ پر اس الہام کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں :۔میں نے تجھ سے ایک خرید و فروخت کی ہے تو بھی اس خرید وفروخت کا اقرار کرا ور کہہ دے کہ خُدا نے مجھ سے خرید و فروخت کی۔“ ( نیز دیکھو تذکره صفحه ۳۴۶ مطبوع ۲۰۰۴ء) ۲۔اس الہام میں خدا کے ساتھ اس خرید وفروخت کا ذکر ہے جو قرآن مجید کی اس آیت میں مذکور ہے۔إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: 1) کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ ایک سودا کیا ہے اور وہ یہ کہ ان کے مال اور جانیں خرید لی ہیں اور ان کے بدلہ میں ان کو جنت دی ہے۔۳۸- اسْهَرُ وَانَامُ " جواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق یہی فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ سونے سے پاک ہے۔مطلب اس الہام سے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بعض گنہ گاروں سے چشم پوشی کرتا ہے اور بعض دفعہ سزا بھی دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے متعلق بھوکا رہنے ، کھانے پینے ، کپڑا پہنے نگا رہنے وغیرہ کے اگر استعارات استعمال ہو سکتے ہیں۔( جیسا کہ ہم مسلم کی حدیث کے حوالہ سے أُفطِرُ وَاصُوم کے جواب میں بیان کر آئے ہیں۔تو سونے جاگنے کا استعارہ کیوں استعمال نہیں ہوسکتا ؟ ۳۹- اصْبِرُ سَنَفْرُعُ يَا مِرُزَا کہ مرزا صبر کر ہم ابھی فارغ ہوتے ہیں: (مکاشفات صفحہ ۲۸) جواب:۔ہاں خدا تعالیٰ کبھی یہ بھی فرمایا کرتا ہے کہ اے بندو! ابھی ہم فارغ ہوتے ہیں۔قرآن مجید میں ہے:۔سَنَفْرُغُ لَكُمْائية التقلنِ (الرحمن : ۳۲) اے دو مخلوق ! ( یعنی جنو! اور انسانو!) ہم عنقریب تمہارے لئے فارغ ہوں گے۔فلا اعتراض نوٹ:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں لفظ ”لک“ نہیں ہے۔اس لئے اس میں تہدید کا پہلو نہیں ہے۔نیز لفظ اصبر اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلام تسکین دہی کی غرض سے ہے پس مولوی محمدعلی امیر پیغام کی کتاب بیان القرآن کا حوالہ قابل اعتنا نہیں اور نہ ہم پر حجت ہے۔