مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 533 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 533

533 ۴۰۔قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں جواب نمبر 1:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قرآنِ مجید میرے منہ کی باتیں ہیں۔الہام میں صیغہ غائب سے صیغہ متکلم کی طرف تشریحا تبدیلی ہوئی ہے۔جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو لہم ہیں اس کی تشریح فرما دی ہے۔سوال پیش ہوا کہ حضور کو جو الہام ہوا ہے ” قرآن خدا کا کلام ہے اور میرے منہ کی باتیں“ اس الہام الہی میں میرے کی ضمیر کس کی طرف پھرتی ہے؟ یعنی کس کے منہ کی باتیں؟ فرمایا: ”خدا کے منہ کی باتیں اس طرح کے ضمائر کے اختلاف کی مثالیں قرآن شریف میں موجود ہیں ( بدر جلد ۶ نمبر ۲۸۔مورخہا ا جولائی ۱۹۰۷ صفحہ ۶) چنانچہ بعینہ اسی طرح ا الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة: ۳تا۵) میں پہلے سب غائب کے صیغے ہیں اور پھر یکدم صیغہ حاضر شروع ہو جاتا ہے۔کیا خدا تعالیٰ (نعوذ باللہ ) آنحضرت کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہرگز نہیں۔فلا اعتراض ۲۔قرآن مجید میں ہے : ” وَاللهُ الَّذِى اَرْسَلَ الرِّيحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنُهُ إِلَى بَلَدٍ میت (فاطر: ۱۰) اور اللہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔پس ہم اس کو ہا تک لاتے ہیں مردہ بستی کی طرف۔اس آیت میں پہلے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر بصیغہ غائب کیا گیا ہے پھر اسی آیت میں آگے چل کر یکدم سُقنا صیغہ متکلم شروع ہو گیا ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بادل آلودہ ہواؤں کو اٹھاتا تو اللہ تعالیٰ ہے مگر مردہ بستی کی طرف ہانک کر لانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(نعوذ باللہ) وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَانْشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا (الزخرف: ١٢) اور وہ جس نے اندازہ کے مطابق آسمان سے پانی اتارا اور پھر ہم نے زندہ کیا اس سے مردہ بستی کو۔وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ (الانعام: ۱۰۰) وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا۔پھر ہم نے اس میں سے ہر چیز کی سبزی نکالی۔۵۔قرآن مجید میں ہے: مَا كَانَ اللهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ (ال عمران: ۱۸۰) کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اس حالت پر نہیں چھوڑے گا جس پر کہ تم اب ہو۔اس آیت میں المُؤْمِنِينَ مفعول بصورت صیغہ غائب ہے مگر انتو عَلَيْهِ “میں انہی مومنین کو ضمیر مخاطب سے ذکر کیا ہے حالانکہ اگر معترض کا اسلوب بیان مد نظر ہوتا تو عَلى مَا اَنْتُمْ عَلَيْهِ کی بجائے عَلى مَاهُمُ عَلَيْهِ چاہیے تھا مگر