مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 512
512 ہاتھ میں تھا۔“ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْجَلَاءِ دَخَلْتُ مَدِينَةَ رَسُولِ اللَّهِ وَبِي فَاقَةٌ فَتَقَدَّمُتُ إِلَى قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَ عَلَى صَاحِبَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِي فَاقَةٌ وَأَنَا ضَيْفُكَ ثُمَّ تَنَجَّيْتُ وَ نِمْتُ دُونَ الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى فَقُمْتُ فَدَفَعَ إِلَيَّ رَغِيْفًا فَاكَلْتُ بَعْضَهُ وَانْتَبَهْتُ وَفِي يَدِى بَعْضُ (انوارالاز کیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء صفحه ۴۰ ذکر الحسن بصریؒ) 66 الرَّغِيفِ۔(منتخب الكلام فى تعبير الاحلام مؤلفه سیرین و قشیر یہ مصری صفحه ۱۰۰) اس عبارت کا تر جمہ شیخ فرید الدین عطار کے الفاظ میں یہ ہے:۔حضرت عبداللہ بن جلاء فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں گیا۔اور مجھے سخت بھوک لگ رہی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر میں گیا۔اور حضور اور حضور کے دونوں ساتھیوں کو السلام علیکم کہا اور عرض کیا کہ حضرت میں بھوکا ہوں۔اور آپ ہی کا مہمان ہوں۔یہ کہہ کر میں قبر سے پرے ہٹ کر سو گیا۔خواب میں کیا دیکھتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لائے ہیں۔میں ( بغرض تعظیم کھڑا ہو گیا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نان دیا۔میں نے اس میں سے آدھا کھا لیا جب بیدار ہوا تو نان کا باقی حصہ میرے ہاتھ میں تھا۔“ ( تذکرۃ الاولیاءذ کر عبد الله بن جلاء صفحه ۴۹۸ ، مصنفہ شیخ فرید الدین عطار ) ے۔حضرت سید اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”صراط مستقیم“ میں لکھا ہے کہ:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در منام دیدند و آنجناب سه خر ما بدست مبارک خود ایشان را خورانیدند و در نفس خود ذائقہ ازاں رویائے حقہ ظاہر وباہر یافتند صراط مستقیم مترجم صفحه ۱۷ از سید اسمعیل شہید ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ تین کھجور میں ایک ایک کر کے کھا رہے ہیں۔۔۔۔جب بیدار ہوئے تو واقعی منہ میں ذائقہ موجود تھا۔۸- حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا ایک کشف ملا حظہ ہو۔فَرَأَى بَيْنَ النَّوْمِ وَالْيَقْظَةِ إِنَّ الْغَوْتَ قَدْ جَاءَ وَبِيَدِهِ تَاجٌ أَحْمَرُ وَ عَمَامَةٌ خَضْرَاءُ فَاسْتَقْبَلَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ حَضْرَةَ الْغَوْثِ فَدَنَا إِلَيْهِ فَوَضَعَ التَّاجَ الْأَحْمَرَ عَلَى رَأْسِهِ وَلَفَّ عَلَيْهِ الْعَمَامَةَ الْخَضْرَاءَ بِيَدِهِ الْمُبَارَكَةِ فَقَالَ يَا وَلَدِى أَحْمَدُ أَنْتَ مِنْ رِجَالِ اللَّهِ 66 وَغَابَ عَنْ نَظْرِهِ فَاسْتَيْقَظَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ فَوَجَدَ التَّاجَ وَالْعَمَامَةَ عَلَى رَأْسِهِ فَشَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى۔مناقب تاج الاولیاء و برہان الاصفیاء مطبوعہ مصر مصنفہ علامہ عبد القادر الاربلی صفحه ۴۱ )