مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 511
511 ملتے ہیں ) یعنی اگر اس واقعہ کو خواب پر محمول کیا جائے تو پھر کوئی مشکل نہیں رہتی۔بات صاف ہو جاتی ہے۔۲۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی پیران پیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔،، رَأَيْتُ رَبَّ الْعِزَّةِ فِي الْمَنَامِ عَلَى صُورَةِ أُمِّي (بحر المعاني صفحه ۶ ) یعنی میں نے خدا کو اپنی والدہ کی صورت میں دیکھا۔۔جناب مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دیوبند ) نے ایام طفلی میں یہ خواب دیکھا کہ گویا میں اللہ جل شانہ کی گود میں بیٹھا ہوا ہوں۔ان کے دادا نے یہ تعبیر فرمائی کہ تم کو اللہ تعالی علم عطا فرمائے گا اور بہت بڑے عالم ہو گے اور نہایت شہرت حاصل ہوگی۔' ( سوانح عمری مولوی محمد قاسم صاحب مؤلفہ مولوی محمد یعقوب نانوتوی صفحه ۳۰) ۴:۔پھر لکھا ہے: إِنَّكَ تَرى فِى الْمَنَامِ وَاجِبُ الْوُجُودِ الَّذِي لَا يُقْبَلُ الصُّوَرَ فِي صُورَةٍ يَقُولُ لَكَ مُعَبِّرُ الْمَنَامِ صَحِيحٌ مَا رَأَيْتَ وَلَكِنْ تَاوِيْلُهُ كَذَا وَكَذَا۔“ (الیواقیت والجواہر از عبدالوہاب اشرافی جلد اصفحہ۱۱۵) تم (اگر ) خدا تعالیٰ کو جو کسی صورت میں مقید نہیں ہوتا خواب میں دیکھو تو تعبیر بتانے والا تم سے کہے گا کہ جو کچھ تم نے دیکھا صحیح ہے لیکن اس کی تعبیر یہ یہ ہے۔۵۔خواب میں واقع متمثل کس طرح ہو سکتا ہے۔اس کے لئے دیکھو مندرجہ ذیل عبارات:۔تذکرۃ الاولیاء صفحہ ۴۰ پر حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے حالات میں ایک واقعہ درج ہے کہ آپ کا ہمسایہ شمعون نامی آتش پرست تھا۔حضرت حسنؓ نے سنا کہ وہ سخت بیمار ہے اور قریب المرگ ہے۔آپ نے اسے تبلیغ کی۔اور وہ اس شرط پر مسلمان ہوا کہ حضرت حسن اسے جنت کا پروانہ لکھ دیں۔اس پر اپنے اور اپنے بزرگان بصری کے دستخط ثبت کر کے شمعون کی قبر میں (جب وہ مر جائے ) اس کے ہاتھ میں دے دیں۔تا کہ اگلے جہان میں گواہ رہے۔چنانچہ حسن نے ایسا ہی کیا۔مگر بعد میں خیال آیا کہ میں نے یہ کیا کیا ؟ اس کو جنت کا پروانہ کیونکر لکھ دیا۔لکھا ہے کہ:۔اسی خیال میں سو گئے۔شمعون کو دیکھا کہ شمع کی طرح تاج سر پر اور مکلف لباس بدن میں پہنے ہوئے بہشت کے باغوں میں ٹہل رہا ہے۔۔۔اس نے حضرت حسنؓ سے کہا۔حق تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اپنے محل میں اتارا ہے اور اپنے کرم سے اپنا دیدار دکھایا۔اب آپ کے ذمہ کچھ بوجھ نہیں رہا۔اور آپ سبکدوش ہو گئے۔لیجیئے یہ اپنا اقرار نامہ کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں۔جب حضرت حسن ”خواب سے بیدار ہوئے تو خط آپ کے