مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 507
507 ۱۴۔روحانی حمل روحانی حمل اور معنوی حمل کے لئے مندرجہ ذیل حوالے یا درکھنے چاہئیں:۔ا الْخَوْفٌ ذَكَرْ وَ الرَّجَاءُ أُنْثَى مِنْهُمَا يَتَوَلَّدُ حَقَائِقُ الْإِيْمَانِ۔“ التعرف لمذهب اهل التصوف قولهم في التقوى صفحه ۹۸) مشہور صوفی حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خوف مذکر اور امید مونث ہے اور ان دونوں کے ملنے سے حقائق ایمان پیدا ہوتے ہیں۔۲۔اسی طرح سے امام الطائفہ الشیخ سہروردی فرماتے ہیں:۔يَسِيرُ المُرِيدُ جُزءُ الشَّيْخ كَمَا أَنَّ الْوَلَدَ جُزُءُ الْوَالِدِ فِي الْوَلَادَةِ الطَّبْعِيَّةِ وَتَصِيرُ هَذِهِ الْوَلَادَةُ انِفًا وَّلَادَةً مَعْنَوِيَّةٌ۔“ (عوارف المعارف جلد اصفحه ۴۵) -۳ قرآن مجید میں حمل کا لفظ خدا تعالیٰ کے متعلق بھی ہے۔فرمایا :۔وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نوچ (مریم: ۵۹) پھر مومنوں کے متعلق بھی آیا ہے۔لَا تَخلَ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (البقرۃ: ۲۸۷) یہاں حمل اٹھانے کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔پس محض لفظ حمل پر مذاق اڑانا جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر لکھ دیا ہے:۔استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔" (کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۵۰) لیا ہے فرمایا:۔اور حمل کے لفظ سے حقیقی اور عام معنے مراد نہیں لئے گئے بلکہ ” حامل صفتِ عیسوی۔مریکی صفات سے عیسوی صفات کی طرف منتقل ہو جائے گا۔“ تو پھر اس پر بے وجہ مذاق اڑانا شرافت سے بعید ہے۔مندرجہ ذیل حوالے پڑھو۔۱۵۔حیض کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۸) ا - كَمَا أَنَّ لِلنِّسَاءِ مَحِيْضًا فِى الظَّاهِرِ وَهُوَ سَبَبُ نُقْصَانِ إِيْمَانِهِنَّ لِمَنْعِهِنَّ عَنِ الصَّلوةِ وَالصَّوْمِ فَكَذَلِكَ لِلرِّجَالِ مَحِيضٌ فِي الْبَاطِنِ هُوَ سَبَبُ نُقَصَانِ إِيْمَانِهِمُ