مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 495
495 تجرید اور تو حید کی زبان دی۔تو اب ضرور میری زبان لُطف صدی سے اور میرا دل نُور ربانی سے اور آنکھ صنعت یزدانی سے ہے۔اسی کی مدد سے کہتا ہوں اور اسی کی قوت سے پھرتا ہوں۔جب اس کے ساتھ زندہ ہوں تو ہرگز نہ مروں گا۔جب اس مقام پر پہنچ گیا۔تو میرا اشارہ ازلی ہے اور عبادت ابدی۔میری زبان ، زبان تو حید ہے اور روح، روح تجرید۔اپنے آپ سے نہیں کہتا کہ بات کرنے والا ہوں اور نہ آپ کہتا ہوں کہ ذکر کرنے والا ہوں۔زبان کو وہ حرکت دیتا ہے۔میں درمیان میں ترجمان ہوں۔حقیقت میں وہ ہے نہ میں۔“ (ظہیرالاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء۔چودھواں باب۔ذکر معراج شیخ بایزید بسطامی مطبوعہ مطبع اسلامی لا ہور بار سوم صفحہ ۱۵۷،۱۶۵۔و تذکرۃ الاولیاء اردو شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنٹر مطبوعہ مطبع علمی لا ہور صفحہ ۱۳۰) نوٹ : حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کی عظیم شخصیت کے متعلق نوٹ دوسری جگہ زیر عنوان ”حجر اسود منم صفحہ ۵۲۰ پر ملاحظہ فرمائیں۔۴ - اَنْتَ مِنْ مَّاءِ نَا وَهُمْ مِّنْ فَشَلٍ جواب :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا یہ مفہوم بتایا ہے:۔اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی، استقامت کا پانی ، تقویٰ کا پانی، وفا کا پانی، صدق کا پانی، حُبّ اللہ کا پانی ہے جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے۔“ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۶ ۵ حاشیہ) ۲۔قرآن مجید میں ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ (الانبياء : ۳۸) اس کی تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ أَنَّهُ لِكَثْرَةِ عَجَلِهِ فِي أَحْوَالِهِ كَأَنَّهُ خُلِقَ مِنْهُ (جلالين مع سمالین زیر آیت خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ۔الانبياء: ۳۷) کہ انسان اپنی مختلف حالتوں میں بڑی جلد بازی سے کام لیتا ہے۔گویا کہ اسی سے پیدا ہوا۔یہ نہیں کہ انسان جلدی کا بیٹا ہے۔۳۔خدا کا پانی الہام الہی اور محبت الہی کو بھی کہتے ہیں۔جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی نے فرمایا ہے