مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 496
496 ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولی اس طرف دریا کی دھار ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۲۹) فَإِنْ شِئْتَ مَاءَ اللَّهِ فَاقْصِدْ مَنَاهَلِي فَيُعْطِكَ مِنْ عَيْنٍ وَعَيْنٌ تَنوَّرُ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد کے صفحہه (۸) اگر تو خدا کا پانی چاہتا ہے تو میرے چشمے کی طرف آ۔پس تجھ کو چشمہ دیا جائے گا۔نیز وہ آنکھ بھی ملے گی جو نورانی ہوگی۔( نیز دیکھو در نشین عربی صفحہ ۳۳) اس جگہ بھی خدا کے پانی سے مراد رضائے الہی ہے۔پس الہام مندرجہ عنوان میں بھی یہی مراد ہے۔۵- رَبُّنَا عَاج جواب:۔یہ لفظ ”عاج ( ہاتھی دانت ) نہیں بلکہ ”عاج“ به تشدید ج ہے جس کا ترجمہ پکارنے والا۔آواز دینے والا ہے۔یہ لفظ حج سے مشتق ہے۔دیکھئے لغت میں ”عَجَّ عَـجـا وَعَجِيجا آواز کرد - بانگ کرد - وَمِنْهُ الْحَدِيثُ اَفْضَلُ الْحَجَ الْعَجُ وَالتَّجُ یعنی برداشتن آواز به تلبیه وقربان کردن هدیه را منتہی العرب والفرائد الدریہ ) که عَجَّ عَجَّا وَعَجِيْجًا کے معنے آواز دینے اور پکارنے کے ہیں۔جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حج میں افضل ترین آواز دینا ( تلبیہ اور لبیک کہنا ) اور قربانی دینا ہے۔الہام کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا خدا دنیا کو اپنی طرف بلاتا ہے۔- اسْمَعُ وَلَدِى اے میرے بیٹے سن! (البشر کی جلد ا صفحه ۴۹) جواب۔الف۔یہ بالکل غلط ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کا کوئی الہام اِسْمَعُ وَلَدِی ہے۔حضرت کی کسی کتاب سے دیکھا ؤ اور انعام لو۔ب۔حضرت اقدس علیہ السلام کا الہام تو اَسْمَعُ وَاری ہے کہ میں اللہ سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں ( مکتوبات احمد یہ جلد اصفحہ ۲۳۔نیز انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفهیم ۵ ) ( أسْمَعُ وَ آری