مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 494
494 ۵۔شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی لفظ ” ابن اللہ کے متعلق لکھتے ہیں:۔اگر لفظ ابنا بجائے محبوبان ذکر شده باشد چه عجب (الفوز الکبیر صفحه۸) نیز دیکھوالسحجة البالغة باب ۳۶ جلدا۔اردوترجمہ موسومه به شموس الله الباز نہ مطبوعہ حمایت اسلام پریس لاہور جلد اصفحہ ۰۹ فر ماتے ہیں:۔فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمُ خَلْفٌ لَمْ يَفْطَنُوُا الْوَجْهَ التَّسْمِيَّةَ وَكَادُوا يَجْعَلُونَ الْبُوَّةَ حَقِيقِيَّةٌ۔“ یعنی ابتدائی نصاری کے بعد ان کے نا خلف پیدا ہوئے جنہوں نے مسیح علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کی وجہ تسمیہ کو نہ سمجھا اور وہ بیٹے کے لفظ سے حقیقی معنوں میں بیٹا سمجھے۔“۔جناب مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی اپنی کتاب ”ازالۃ الا وہام میں فرماتے ہیں:۔فرزند عبارت از عیسی علیه السلام است که نصاری آنجناب را حقیقۃ ابن اللہ میدانند واہلِ اسلام ہمہ آنجناب را ابن الله بمعنی عزیز و برگزیده خدا می شمارند ، از الته الا و بام صفحه ۵۲۰) که فرزند سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جن کو عیسائی خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے ہیں مگر تمام اہل اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابن الله بمعنی خدا کا پیارا و برگزیدہ مانتے ہیں۔گویا ابن اللہ کے معنی خدا کا پیارا اور برگزیدہ ہوئے۔اور ان معنون میں مسلمان بھی مسیح کو ابن اللہ مانتے ہیں۔أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَتَفْرِيدِى۔جواب (۱) توحید اور تفرید " مصدر ہیں۔جن کا ترجمہ ہوگا ” واحد جاننا “ اور ” یکتا جاننا“۔پس الہام کا مطلب یہ ہے کہ تو خدا کو واحد اور یکتا جاننے کے مقام پر ہے۔یعنی اپنے زمانہ میں سب سے بڑا موحد ہے۔فلا اعتراض؟ (۲) حضرت مرزا صاحب نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں:۔تو مجھ سے ایسا قرب رکھتا ہے اور ایسا ہی میں تجھے چاہتا ہوں جیسا کہ اپنی تو حید اور تفرید کو “ اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحه ۴۱۳ ) (۳) حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے :۔تاج کرامت میرے سر پر رکھ کر توحید کا دروازہ مجھ پر کھول دیا۔جب مجھ کو میری صفات کے اس کی صفات میں مل جانے کی اطلاع ہوئی تو اپنی خودی سے مشرف فرما کر اپنی بارگاہ سے میرا نام رکھا۔دُوئی اٹھ گئی اور یکتائی ظاہر ہوگئی۔پھر فرمایا کہ جو تیری رضا وہی میری رضا ہے۔حالت یہاں تک پہنچی کہ ظاہر وباطن سرائے بشریت کو خالی پایا۔سینہ ظلمانی میں ایک سوراخ کھول دیا۔مجھ کو