مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 10
10 ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات وہ بالکل تباہ ہو جاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق غلطی نہیں کرتا۔سچی بات یہی ہے کہ اس کا ئنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھو تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک نظام معلوم ہوگا۔نیک جزا اور بد کا رسزا پا رہے ہیں۔ہر ایک چیز اپنا مفوضہ کام کر رہی ہے اور دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے لیکن میں اسے یہیں ختم کرتا ہوں۔عاقل را اشارہ کافی است۔چھٹی دلیل: قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منکر ہمیشہ ذلیل وخوار ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک ثبوت ہے ان کے باطل پر ہونے کا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ فتوحات دیتا ہے اور وہ اپنے مخالفوں پر غالب رہتے ہیں۔اگر کوئی خدا نہیں تو یہ نصرت و تائید کہاں سے آتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرعون اور موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے: قَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الأعلى فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى (النزعت: ۲۵ ۲۶) یعنی جب حضرت موسی نے فرعون کو اطاعت الہی کی نسبت کہا تو اس نے تکبر سے جواب دیا کہ خدا کیسا؟ خدا تو میں ہوں۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی ذلیل کر دیا۔چنانچہ فرعون کا واقعہ ایک تین دلیل ہے کہ کس طرح خدا کے منکر ذلیل وخوار ہوتے رہے ہیں۔علاوہ ازیں دنیا میں کبھی کوئی سلطنت دہریوں نے قائم نہیں کی بلکہ دنیا کے فاتح اور ملکوں کے مصلح اور تاریخ کے بنانے والے وہی لوگ ہیں کہ جو خدا کے قائل ہیں۔کیا جہان کی ذلت و نکبت اور ایک قوم کی صورت میں کبھی حکومت نصیب نہ ہونا کچھ معنی نہیں رکھتا؟ ساتویں دلیل: ساتویں دلیل اللہ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ہے کہ اس کی ذات کے مانے اور اس پر حقیقی ایمان رکھنے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور باوجود لوگوں کی مخالفت کے ان پر کوئی مصیبت نہیں آتی۔