مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 9 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 9

9 لیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں اور شیر کو پنجے اور درخت کو جڑیں اور انسان کو ٹانگیں۔ہاں کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہو گیا اس میں اس قدرا نتظام رکھا گیا ہو۔پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہوا بھی پیدا کی۔اگر پانی پر اس کی زندگی رکھی تو سورج کے ذریعہ اور بادلوں کی معرفت اسے پانی پہنچایا۔اور اگر آنکھیں دیں تو ان کے کارآمد بنانے کے لئے سورج کی روشنی بھی دی تا کہ وہ اس میں دیکھ بھی سکے۔کان دیئے تو ساتھ اس کے خوبصورت آواز میں بھی پیدا کیں۔زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطا فرما ئیں۔ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیا کردی۔ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں پھیپھڑا پیدا کر دیتا لیکن اس کے لئے یہ ہوا کا سامان کیونکر پیدا ہو گیا ؟ ممکن تھا کہ آنکھیں انسان کی پیدا ہو جاتیں لیکن و بعجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا کہ تا وہ اپنا کام کر سکیں۔اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کر دیئے تھے تو یہ کون سی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کر دی۔برفانی ممالک میں مان لیا کہ کتے اور ریچھ تو اتفاق نے پیدا کر دیئے لیکن کیا سبب کہ ان کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گئے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں اور اتفاق ہی نے ان کے علاج بنا دیئے۔اتفاق ہی نے بچھو بوٹی جس کے چھونے سے خارش ہونے لگ جاتی ہے پیدا کی اور اس نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اگا دیا کہ اس کا علاج ہو جائے۔یہ دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوں کے لئے موت تجویز کی ان کے ساتھ طوالت کا سلسلہ بھی قائم کر دیا اور جن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہ رکھا۔انسان اگر پیدا ہوتا مگر نہ مرتا تو کچھ سالوں میں ہی دنیا کا خاتمہ ہو جاتا۔اس لئے اس کے لئے فنادی لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے ہیں نہ اگلے فنا ہوتے ہیں۔کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش رکھی ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا ہے کہ آپس میں ٹکرا نہ جائیں۔کیا یہ سب باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ ان سب چیزوں کا خالق وہ ہے جو نہ صرف علیم ہے بلکہ غیر محدود علم والا بھی ہے۔اس کے قواعدا ایسے منضبط ہیں کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں اور نہ کچھ کمی ہے۔مجھے تو اپنی انگلیاں بھی اس کی ہستی کا ثبوت معلوم ہوتی ہیں۔مجھے جہاں علم دیا تھا اگر شیر کا پنجہل جائے تو کیا میں اس سے لکھ سکتا تھا۔شیر کو علم نہیں دیا اسے پنجے دیئے۔مجھے علم دیا۔لکھنے کے لئے انگلیاں بھی دیں۔سلطنتوں میں ہزاروں مدبر اُن کی درستی کے لئے دن رات لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے