مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 463
463 طرح خان کا نام بطور خطاب دیا جاتا ہے۔بہر حال جو کچھ خدا نے ظاہر فرمایا ہے وہی درست ہے انسان ایک ادنی سی لغزش سے غلطی میں پڑ سکتا ہے مگر خدا سہو اور غلطی سے پاک ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۸۱ حاشیه ) (ب) یادر ہے کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے۔اب خدا کی کلام سے معلوم ہوا کہ دراصل ہمارا خاندان فارسی خاندان ہے۔سو اس پر ہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں کیونکہ خاندانوں کی حقیقت جیسا کہ خدا تعالیٰ کو معلوم ہے کسی دوسرے کو ہرگز معلوم نہیں اسی کا علم صحیح اور یقینی ہے اور دوسروں کا شکی اور ظنی۔“ (اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلدی اصفه۳۶۵ حاشیہ) تیرھویں دلیل:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الآيَاتُ بَعْدَ الْمِأْتَيْنِ (مشكوة كتاب الفتن باب اشراط الساعة ) کہ مسیح و مہدی کے ظہور کی نشانیاں بارھویں صدی کے گزرنے پر ظاہر ہوں گی۔چنانچہ ہم نے جو معنے گئے ہیں۔حضرت ملاعلی قاری نے بھی ان کی تائید کی ہے۔وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ اللَّامُ فِي الْمِاتَيْنِ لِلْعَهْدِ رَى بَعْدَ الْمِأَتَيْنِ بَعْدَ الْأَلْفِ وَهُوَ الْوَقْتُ لِظُهُورِ الْمَهْدِيّ۔“ (مشكوة كتاب الفتن باب اشراط الساعة - نیز دیکھو حاشیہ ابن ماجہ جلد ۲ صفحه ۲۶ مصری حاشیہ علامہ سندھی) که ممکن ہے الماتین کا الف لام اس عہد کے لئے ہو جو ایک ہزار کے دو سو سال بعد کا ہے ( یعنی ۱۲۰۰) اور وہی وقت ظہور مہدی کا ہے۔چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی اپنی کتاب بنج الکرامہ صفحه ام وصفحه ۳۹۴ و صفحه ۳۹۵ مطبع شاہجہانی بھوپال پر بہت سی روایات نقل کر کے یہی نتیجہ نکالا ہے۔کہ مہدی تیرھویں صدی میں نازل ہونا چاہیے۔نواب نور الحسن خاں لکھتے ہیں۔اس حساب سے ظہور مہدی کا شروع تیرھویں صدی پر ہونا چاہیے تھا مگر یہ صدی پوری گزرگئی مہدی نہ آئے۔اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے۔اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ مہینے گزر چکے ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل رحم وکرم فرمائے۔چار چھ برس کے اندر مہدی ظاہر ہو جاویں۔“ اقتراب الساعه از نواب نور الحسن خان صاحب صفحہ ۲۲۱ مطبع مفید عام الكامیة فی آگرہ) بَعْدَ الْمِأَتَيْنِ“ کے رو سے بارھویں صدی کے ختم ہونے پر تیرھویں صدی میں امام مہدی کا