مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 464
464 پیدا ہونا ضروری تھا۔ایسے وقت میں کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر چالیس سال کا ہو کر دعوی کر سکے۔یہ تو ممکن نہیں کہ مہدی بارہویں صدی میں پیدا ہو۔کیونکہ بَعْدَ الْمِاتَینِ میں لفظ بعد بتا تا ہے کہ وہ بارہویں صدی کے ختم ہونے سے پہلے پیدا نہیں ہوسکتا۔پھر اس وجہ سے کہ امام مہدی نے اپنی صدی کا مجدد ہونا تھا اسلئے اسے تیرھویں صدی میں ایسے وقت میں پیدا ہونا تھا کہ انگلی صدی کے سر پر اس کی عمر چالیس سال کی ہو۔پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں جو ۴ ارشوال ۱۲۵۰ھ مطابق ۱۳ / فروری ۱۸۳۵ء بروز جمعہ پیدا ہوئے اور ۱۲۹۰ھ کو چودھویں صدی کے سر پر آپ عین چالیس برس کی عمر میں شرف مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہو کر دعویٰ مہدویت کے ساتھ ظاہر ہوئے اور عین چودھویں صدی کے سر پر آپ نے دعویٰ کیا۔گویا حدیث اور روایات کے عین مطابق آپ دنیا میں تشریف لائے۔سچ ہے۔وقت تھا وقت مسیحانہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا ! چودھویں دلیل:۔حدیث شریف میں ہے:۔( مسیح موعود ) إِنَّ لِمَهْدِيّنَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ۔“ (دار قطنی کتاب العیدین باب صفة الصلواة الخسوف) کہ ہمارے مہدی کی صداقت کے دو نشان ہیں۔اور یہ صداقت کے دونوں نشان کبھی کسی کے لئے جب سے دنیا بنی ہے ظاہر نہیں ہوئے۔رمضان میں چاند کو ( چاند گرہن کی راتوں میں سے) پہلی رات کو اور سورج گرہن کے دنوں میں سے ) درمیانے دن کو سورج کو گرہن لگے گا۔چنانچہ یہ گرہن ۱۸۹۴ء میں لگا۔یعنی چاند کی ۱۳۔۱۴۔۱۵ تاریخوں میں سے۱۳ تاریخ کو رمضان کے مہینہ میں چاند (قمر) کو اور ۲۷۔۲۸۔۲۹ تاریخوں میں سے ۲۸ تاریخ کو ماہ رمضان میں سورج کو گرہن لگا۔رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن لگنا حدیث شریف میں مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ”قمر“ بولا ہے اور قمر پہلی تین راتوں کے بعد کے چاند کو کہتے ہیں۔پہلی رات