مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 462 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 462

462 اسی طرح مل جل گئے کہ سب کو بلا امتیاز مغل“ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ہر گورے شریف آدمی کو دمغل“ کہا جاتا تھا۔ناقابل تردید ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی الاصل ہونے کا نا قابلِ تردید ثبوت یہ ہے کہ بندوبست مال ۱۸۶۵ء میں حضرت صاحب کے دعوئی سے سالہا سال پہلے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد اور دوسرے بزرگ زندہ موجود تھے قادیان کے مالکان کے شجرہ نسب کے ساتھ فٹ نوٹ میں بعنوان ” قصبہ قادیان کی آبادی اور وجہ تسمیہ“ لکھا ہے:۔مورث اعلیٰ ہم مالکان دیہ کا بعہد شاہانِ سلف ( ملک فارس) سے بطریق نوکری۔۔۔۔۔۔کر۔۔۔۔۔۔اس جنگل افتادہ میں گاؤں آباد کیا۔“ اور اس کے نیچے مرزا غلام مرتضی صاحب و مرزا غلام جیلانی صاحب و مرزا غلام محی الدین وغیرھم کے دستخط ہیں۔پس :۔) یہ سرکاری کا غذات کا اندراج حضرت صاحب کے دعوئی سے سالہا سال قبل کا حضرت صاحب کے فارسی الاصل ہونے کا یقینی ثبوت ہے۔(ب) مولوی محمد حسین بٹالوی لکھتا ہے :۔" مؤلّف براہین احمدیہ قریشی نہیں فارسی الاصل ہے۔“ (اشاعۃ السنہ جلد ے صفہ ۱۹۳) ( ج ) ” جناب مرزا صاحب یافث بن نوح کی اولاد سے ہیں۔“ ( ٹریکٹ امر بھائی اور قرآنِ حکیم مصنفہ ایم۔اے لطیف صفحہ ۱۶) یافث بن نوح کے متعلق ملاحظہ ہو غیاث اللغات فارسی :۔شیخ ابن حجر شارح صحیح بخاری گفته است که فارسی منسوب بفارس بن غامور بن یافث بن نوح علیه السلام است۔پس حضرت اقدس علیہ السلام کا فارسی الاصل ہونا ثابت ہے۔جیسا کہ فرماتے ہیں:۔ا۔اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مغلیہ۔نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہو گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ میرزا اور بیگ کا لفظ کسی زمانہ میں بطور خطاب کے انکو ملا تھا جس