مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 435 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 435

435 السلام نے نبی کی تعریف سب مخالفین پر واضح فرما کر اس کو خوب شائع فرمایا کہ نبی کے لئے شریعت لانا ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب شریعت رسول کا تابع نہ ہو بلکہ کثرت مکالمہ ومخاطبہ مشتمل بر کثرت امور غیبیہ کا نام نبوت ہے۔تو اس تعریف کی رو سے آپ نے اپنے آپ کو نبی اور رسول کہا۔اب ظاہر ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تعریف نبوت کے رو سے حضرت صاحب علیہ السلام کبھی بھی نبی نہ تھے اور نہ صرف حضرت صاحب بلکہ آپ سے پہلے ہزاروں انبیاء مثلاً حضرت ہارون ، سلیمان ، یحیی ، زکریا ، اسحاق ، یعقوب، یوسف وغیرہ علیہم السلام بھی نبی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ وہ بھی کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے لیکن ۱۹۰۱ ء کے بعد کی تشریح کے رو سے ( جو ہم نے اوپر بیان کی ہے) ۱۹۰۱ء سے پہلے بھی حضور نبی تھے۔غرضیکہ حضرت صاحب کی نبوت یا اس کے دعوی کے زمانہ کے بارہ میں کوئی اختلاف یا شبہ نہیں بلکہ بحث صرف ” تعریف نبوت کے متعلق ہے ورنہ حضرت صاحب کا دعویٰ ابتداء سے آخر تک یکساں چلا آتا ہے۔جس میں کوئی فرق نہیں۔آپ کے الہامات میں لفظ نبی اور رسول براہین کے زمانہ سے لے کر وفات تک ایک جیسا آیا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے جس چیز کو ۱۹۰۱ء کے بعد نبوت قرار دیا ہے اس کا اپنے وجود میں موجود ہونا حضور نے براہین کے زمانہ سے تسلیم فرمایا ہے۔پس حضور علیہ السلام کو دعویٰ نبوت والہام ووحی کے بعد تمیں برس کے قریب مہلت ملی جو آپ کی صداقت کی بتین دلیل ہے۔حق بر زبان جاری چنانچہ خود مصنف محمدیہ پاکٹ بک کو بھی (جس نے یہ اعتراض کیا ہے ) ایک دوسری جگہ اقرار کرنا پڑا ہے جیسا کہ لکھتا ہے:۔مرزا صاحب بقول خود براہین احمدیہ کے زمانہ میں ”نبی اللہ تھے۔“ (تلخیص از محمد یه پاکٹ بک مطبوعہ ۱۹۵۰ صفحه ۲۵۸) لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کا بد انجام شرائط :- جھوٹے مدعیان نبوت کے لئے جو اس آیت کے ماتحت قابل سزا ہیں مندرجہ ذیل