مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 436 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 436

436 باتوں کا ہونا ضروری ہے:۔ا۔وہ مجنون نہ ہو۔تَقَوَّل باب تفعل سے ہے جس میں بناوٹ پائی جاتی ہے -۲ وہ لفظی الہام کا قائل ہو۔یعنی یہ نہ کہتا ہو کہ جو دل میں آئے وہ الہام ہے۔کیونکہ آیت ۲۔میں بَعْضَ الْاقَاوِيلِ کا لفظ موجود ہے۔۔وہ اپنے دعوی کا اعلان بھی لوگوں کے سامنے کرے۔خود خاموش نہ ہو۔کیونکہ آیت میں تقول“ کا فاعل خود مدعی ہے کوئی دوسرا نہیں۔یعنی یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مدعی خود تو نہ کوئی دعوی کرے۔نہ الہام پیش کرے۔بلکہ اس کی بجائے کوئی اور شخص اپنے آپ سے بنا کر دعاوی اس کی طرف منسوب کر دے۔يز فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِرِينَ ( الحاقة: (۴۸) کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ موجود ہونے چاہئیں جن کے متعلق یہ خیال ہو سکے کہ یہ ہر مشکل میں اس مدعی کے مد د معاون ہوں گے۔۴۔وہ مدعی الوہیت نہ ہو۔گو یا خدا کو اپنے وجود سے الگ ہستی خیال کرنے والا ہو۔آیت زیر بحث میں لفظ علينا اس مضمون کو بیان کرتا ہے۔علاوہ ازیں قرآن مجید میں خدائی کے دعوی کرنے والے کا علیحدہ طور پر ذکر موجود ہے۔وَمَنْ يَقُل مِنْهُمْ إِلَى الَهُ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ كَذلِكَ نَجْزِي الظَّلِمِينَ (الانبياء : ٣٠) کہ جو شخص کہے کہ میں خدا ہوں اللہ کے سوا تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیتے ہیں۔ایسے ظالموں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ مدعی الوہیت کے لئے ضروری نہیں کہ اسے اس دنیا میں سزا دی جائے بلکہ یہ کا ذب مدعی نبوت ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے لازمی اور ضروری قرار دیا ہے کہ اسے اسی دنیا میں سزا دی جائے کیونکہ کوئی انسان خدا نہیں ہوسکتا۔پس مدعی الوہیت کا دعومی عقلمندوں کو دھوکے میں نہیں ڈال سکتا مگر نبی چونکہ انسان ہی ہوتے ہیں۔اس لئے جھوٹے مدعی نبوت سے لوگوں کو دھوکہ لگنے کا امکان ہے۔اسی لئے خدا اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے۔چنانچہ علامہ ابومحمد ظاہری نے بھی اپنی کتاب الفصل فـي الــمــال والاهواء والنحل جلدا صفحہ ۱۰۹ میں لکھا ہے:۔وَ مُدَّعِيُّ الرَّبُوْبِيَّةِ فِى نَفْسِ قَوْلِهِ بَيَانُ كَذِبِهِ قَالُوا فَظُهُورُ الْآيَةِ عَلَيْهِ لَيْسَ مُوجِبًا بِضَلالٍ مَنْ لَهُ عَقْلٌ۔وَاَمَّا مُدَّعِيُّ النُّبُوَّةِ فَلا سَبِيلَ إِلَى ظُهُورِ الْآيَاتِ عَلَيْهِ لَأَنَّهُ