مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 434 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 434

434 ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ لَو تَقَوَّلَ “ والی آیت تو مدعیان نبوت کے لئے ہے۔مگر مرز اصاحب نے دعویٰ نبوت ۱۹۰۱ء میں کیا ہے۔الجواب :۔یہ غلط ہے کہ یہ آیت صرف مدعیان نبوت کے لئے ہے۔اگر چہ مدعیان نبوت بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ آیت کے الفاظ ہیں :۔لَو تَقَولَ عَلَيْنَا کہ اگر یہ قول ( الہام، وحی ) اپنے پاس سے بنا کر ہماری طرف منسوب کرے تو وہ ہلاک کیا جاتا ہے لَو تَنَبَّنَا کا لفظ نہیں۔کہ اگر یہ نبوت کا جھوٹا دعوی کرے۔پس اس آیت میں ہرایسے مفتری علی اللہ کا ذکر ہے جو اپنے پاس سے جان بوجھ کر جھوٹا الہام ووحی بنا کر خدا کی طرف منسوب کرے۔ہو سکتا ہے کہ ایسا مفتری علی اللہ مدعی نبوت بھی ہو۔۲۔اگر بغرض بحث یہ مان بھی لیا جائے کہ یہاں صرف مدعی نبوت“ ہی مراد ہے تو پھر بھی تمہارا اعتراض باطل ہے۔کیونکہ حضرت اقدس کا الہام "هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى براہین احمدیہ میں موجود ہے جس میں حضور علیہ السلام کو ”رسول“ کر کے پکارا گیا ہے اور حضور نے اس الہام کو خدا کی طرف منسوب فرمایا۔اگر خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو رسول نہیں کہا تھا تو پھر آیت زیر بحث کے مطابق ان کی قطع و تین ہونی چاہیے تھی مگر حضرت مرزا صاحب براہین کے بعد تقریبا ۳۰ سال تک زندہ رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ مذہب نہیں کہ حضرت مرزا صاحب براہین کی تالیف کے زمانہ میں نبی نہ تھے بلکہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ حضور علیہ السلام براہین کے زمانہ میں بھی نبی تھے ہاں لفظ نبی کی تعریف میں جو غیر احمدی علماء کے نزدیک مسلم تھی جو یہ تھی کہ نبی کے لئے شریعت لانا ضروری ہے۔نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے نبی کا تابع نہ ہو۔اس تعریف کی رو سے نہ حضرت مرزا صاحب ۱۹۰۱ ء سے پہلے نبی تھے اور نہ بعد میں۔کیونکہ آپ کوئی شریعت نہ لائے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع بھی تھے۔پس چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریعی نبی نہ تھے اس لئے اوائل میں حضور علیہ السلام اس تعریف نبوت کی رو سے اپنی نبوت کی نفی کرتے رہے جس سے مراد صرف اس قدر تھی کہ میں صاحب شریعت براہ راست نبی نہیں ہوں، لیکن بعد میں جب حضور علیہ