مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 422
422 شریعت محمدیہ پر قائم و پر ہیز گار وصداقت شعار ہیں۔“ ( اشاعۃ السنۃ جلدے نمبر ۹) اب ہم اس ( براہین احمدیہ) پر اپنی رائے نہایت مختصر اور بے مبالغہ الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور اس کا مؤلف ( حضرت مسیح موعود ) بھی اسلام کی مالی و جانی قلمی ولسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکالا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے۔“ (اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۶) اعتراض:۔مرزا صاحب نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھا ہے کہ حیات مسیح کا عقیدہ مشرکانہ عقیدہ ہے اور خود بارہ سال حیات مسیح کے قائل رہے۔جواب (۱) حد ہمیشہ اتمام حجت کے بعد لگتی ہے جب تک نبی ایک بات کو ممنوع قرار نہیں دے دیتا اس وقت تک اس کی خلاف ورزی کرنے والا کسی فتویٰ کے ماتحت نہیں آتا۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قَدْ اَفْلَحَ وَ أَبِيهِ إِنْ صَدَقَ (مسلم کتاب الايمان باب بيان الصلوات التي هي احد اركان الاسلام ) کہ اس کے باپ کی قسم اگر اس نے سچ بولا ہے تو وہ کامیاب ہو گیا۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ”باپ کی قسم واہیہ کے الفاظ میں کھائی ہے مگر دوسری جگہ فرمایا :- (۲) مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ اَشُرَكَ (ترمذی ابواب الايمان والنذور باب ما جاء في عن من حلف بغير الله ومشكوة كتاب الايمان والنذور باب الايمان والنذور) جوخدا کے سوا کسی کی قسم کھائے وہ مشرک ہو جاتا ہے۔چنانچہ مشکوۃ مجتبائی کتاب الاطعمه باب اكل المضطر صفحہ ۳۷۰ میں ابو داؤد کی یہ روایت درج ہے: قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ وَ اَبِي الجُوعُ“ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے باپ کی قسم یہ بھوک ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باپ کی قسم کھائی ہے اور اس کے متعلق حضرت ملا علی قاری فرماتے ہیں: "و قوله و ابي الجوع قِيلَ لَعَلَّ هذَا الْحَلْفَ قَبْلَ النَّهْي عَنِ الْقَسْمِ بِالْآبَاءِ (مرقاة برحاشیہ مشکوۃ مجتبائی صفحه ۳۷۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” میرے باپ کی قسم کہا گیا ہے کہ شاید باپوں کی قسم کی ممانعت سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تم اٹھائی ہے یا عادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکل گئی ہے۔