مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 423
423 (۳) فَقَدْ لَبِثْتُ والی آیت میں تو چالیس سالہ قبل از دعوی زندگی میں جھوٹ اور فسق و فجور سے پاکیزگی کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ورنہ عقائد تو انبیاء کوخدا تعالیٰ کی وحی ہی آکر مکمل طور پر بتاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے چیلنج میں فرمایا :۔تم کوئی عیب ، افترا یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہوگا۔“ (۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فرمایا۔مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذِبَ (بخارى كتاب التفسير تفسير سورة النساء باب قوله إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا الخ) کہ جو کہے کہ میں یونس بن متی سے بڑا ہوں وہ جھوٹ بولتا ہے پھر فرمایا لَا تُفَضِلُونِى عَلَى مُوسى “ ( صحیح بخاری کتاب الانبیاء کتاب خصومات باب مايذكر في الاشخاص ) کہ مجھ کو موسی سے افضل نہ کہو۔مگر بعد میں فرمایا۔آنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ لَا فَخَرَ“ کہ میں تمام انسانوں کا سردار ہوں اور یہ بطور فخر نہیں بلکہ اظہار واقعہ ہے۔پھر فرمایا ”آنَا اِمَامُ النَّبِيِّينَ وَأَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِینَ“ کہ میں تمام نبیوں کا امام اور رہبر ہوں۔نیز دیکھو مسلم جلد۲ صفحہ ۳۰۷ جہاں لکھا ہے کہ کسی شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا۔يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ! تو آپ نے فرمایا۔ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ کہ میں تمام انسانوں سے افضل نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سب انسانوں سے افضل ہیں۔(۵) آج اگر کوئی مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اس پر یہودی اور کافر ہونے کا فتوی لگ جائے مگر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد ۱۴ سال اور ے مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔(بخاری کتاب الصلواة باب التوجه نحو القبله) كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمُقَدَّسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔سولہ یا سترہ مہینے (ہجرت کے بعد ) اس تبدیلی پر اعتراض کرنے والوں کو خدا تعالیٰ نے سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ کہ کر بیوقوف قرار دیا ہے۔نوٹ : بعض مخالف مولوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض اس قسم کی عبارات پیش کر دیا