مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 421
421 ہوں اور یہ کہ ایک خطر ناک عذاب آنے والا ہے۔تو انہی مصدقین نے انکار کیا اور ابولہب نے تو تبا لگ بھی کہہ دیا کہ آپ کو ہلاکت ہو۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی لوگ جو پہلے مَا جَرَّبُنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا کہا کرتے تھے بعد از دعویٰ نبوت جھوٹا کہنے لگ گئے۔قَالَ الْكَفِرُونَ هذا سحر كَذَّابٌ (ص:۵) که آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف جادوگر ہیں بلکہ نعوذ باللہ کذاب بھی ہیں۔پس ثابت ہوا کہ نبی کی قبل از دعوئی زندگی دوست و دشمن کے تجربہ کے رو سے پاک ہوتی ہے۔گو پاک تو اس کی دعویٰ نبوت کے بعد کی زندگی بھی ہوتی ہے مگر چونکہ دعویٰ نبوت کی وجہ سے لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اس لئے وہ اس پر طرح طرح کے اعتراض دشمن بات کرے انہونی“ کے مطابق کیا کرتے ہیں۔پس اگر کسی مدعی نبوت کی صداقت پر کنی ہو تو اس کی دعوی سے قبل کی زندگی پر نظر ڈالنی چاہیے۔حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اب دیکھو خدا نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پر پورا کر دیا ہے کہ میرے دعویٰ پر ہزار ہا دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقعہ دیا ہے کہ تائم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتر ایا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہوگا۔کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میںکوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتدا سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔“ ( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ی۶۴) اس چیلنج کو شائع ہوئے۵۲ سال گزر گئے مگر آج تک کسی شخص کو اس کے قبول کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ہاں مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن کے زمانہ سے جانتا تھا۔یہ شہادت دی۔مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب۔(اشاعۃ السنتہ جلد نمبر ۱ از مولی محمد حسین بٹالوی) مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی روسے ( وَاللَّهُ حَسِيْبُهُ)