مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 416 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 416

416 جواب نمبر :۔یہ ایک بلا دلیل مفروضہ ہے۔یہ کہاں لکھا ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے کسی کو بھی عذاب نہیں دے گا یا اس امت میں تفرقہ نہیں پڑے گا۔حدیث میں تو یہ لکھا ہے إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَ سَبْعِينَ مِلَّةً تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَ سَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِى النَّارِ إِلَّا مِلَّةَ وَاحِدَةٌ ( مشکوۃ اصبح المطالع باب الاعتصام بالكتاب والسنة صفحه ۳۰ مطبع احمدی ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود کے بہتر فرقے ہوئے تھے لیکن میری امت کے ۷۳ فرقے ہو جائیں گے ان میں سے ۷۲ دوزخی ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے۔پس تفرقہ بھی موجود ہے اور اکثریت کا فی النار ہونا بھی مسلم ہے۔پھر یہ احتیاط کس لئے ہے؟ نمبر ۲۔مسیح موعود اور امام مہدی کی آمد کا عقیدہ ایک اجماعی عقیدہ ہے اور یہ بھی مسلم ہے کہ ان کا انکار کفر ہے ملاحظہ ہو:۔الف۔جو کوئی تکذیب مہدی کی کرے گاوہ کافر ہو جائے گا۔رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ الْإِسْكَافُ فِي فَوَائِدِ الْأَخْبَارِ وَ ابُو الْقَاسِمِ السُّهَيْلِيُّ فِي شَرْحِ السِّيَرِ لَهُ“ ( اقتراب الساعه از نواب نورالحسن صاحب صفحہ ۱۰۰ مطبع مفید عام الكامنة فی آگره ۱۳۰۱ھ ) ب۔وابو بکر بن ابی خیثمہ اسکاف چنانکہ سہیلی از وے نقل کرده در یں باب تو غل نموده در فوائد الاخبار بسند خود از مالک بن انس از محمد بن منکد راز جابر آورده که گفت رسول خدا صلعم مَنْ كَذَّبَ بِالْمَهْدِى فَقَدْ كَفَرَ ( حج الكرامه از نواب صدیق حسن خان صفحه ۳۵۱ مطبع شاہجہانی واقع بلدہ بھو پال ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مہدی کی تکذیب کرنے والا کافر ہوگا۔ج۔حضرت ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔وَمَنْ قَالَ بِسَلْبِ نُبُوَّتِهِ كَفَرَ حَقًّا كَمَا صَرَّحَ بِهِ السُّيُوطِئُ فَإِنَّهُ النَّبِيُّ لَا يَذْهَبُ عَنْهُ وَصْفُ النُّبُوَّةِ فِي حَيَاتِهِ وَلَا بَعْدَ مَوْتِه و عیسی را بعد نزول وحی الہی آید چنانکه در حدیث نواس بن سمعان نزد مسلم وغیرہ آمد و يَقْتُلُ عِيسَى الدَّجَّالَ عِنْدَ بَابِ لُدٍ الشَّرَقِيَّ فَبَيْنَمَاهُمْ كَذَالِكَ وَإِذْ أَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِنِّي قَدْ اَخْرَجْتُ عِبَادًا مِّنْ عِبَادِى لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزُ عِبَادِى إِلَى الطُّورِ الْحَدِيثِ - وظاہر آنست که آرنده وی بسوئے او جبرئیل علیہ السلام باشد بلکہ ہمین یقین داریم و درال تر درنمی کنیم چه جبرئیل سفیر خدا است در میان انبیاء علیہم السلام وفرشتہ دیگر برائے این کار معروف نیست - (نج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صفحه ۴۳۱ مطبع شاہجہانی واقع بلدہ بھوپال)