مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 417
417 ۳۔یہ تو خیر امام مہدی یا مسیح موعود کا ذکر ہے لیکن ان کے علاوہ بھی بعض ہستیاں ایسی ہیں جن پر ایمان لانا مدار نجات ہے ملاحظہ ہو:۔(الف) قرآن مجید : - أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء: ٢٠) (ب) مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِى مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ (مستدرک امام حاکم بحوالہ جامع الصغیر للسیوطی جلد ۲ صفحه ۱۵۴ مطبوعہ مصر باب الميم ) یعنی میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی ہے جو کوئی اس پر سوار ہو گا نجات پائے گا اور جو پیچھے رہے گا وہ غرق ہوگا۔( یہ حدیث ہے) اس حدیث میں اہل بیت نبوی پر ایمان لانے کو مدار نجات ٹھہرایا گیا ہے۔( ج ) حدیث میں ہے حُبُّ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنَ الْإِيْمَانِ وَ بُغْضُهُمَا نِفَاقِ وُحُبُّ الْأَنْصَارِ مِنَ الْإِيْمَانِ وَ بُغْضُهُمْ كُفْرٌ ( ابن عساكر بحوالہ جامع الصغير للسيوطى حرف الحاء صفحہ ۱۴۶ جلد ) یعنی ابوبکر و عمر کی محبت ایمان میں سے ہے اور ان سے بغض نفاق (کفر) ہے انصار کی محبت ایمان اور ان سے بغض کفر ہے۔(د) " مَنْ سَب اَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَآئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ “ (طبرانی بحوالہ جامع الصغیر جلد ۲ صفحہ ۱۷۲) یعنی جو کوئی میرے اصحاب کو گالی دے گا اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور جملہ انسانوں کی لعنت ( ه ) اللہ تعالیٰ نے حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی کو الہام کیا۔مَقْبُولُكَ مَقْبُولِی وَ مَرْدُودُكَ مَرْدُودِی ( کتاب مناقب تاج الاولیاء مصری صفحه ۲۲۲۱) که تیرا مقبول میرا مقبول اور تیرا مردود میرا مردود ہے۔(و) وَمَنْ يَنْحَرِف عَنْ طَاعَتِهِ يَقَعُ مِنْ ذُرِّوَةِ الْقُرْبِ إِلَى أَسْفَلِ الْبُعْدِ وَالْحِرْمَانِ (مناقب تاج الاولیاء مصری صفحہ ۱۳) یعنی جس نے حضرت غوث الاعظم کی فرمانبرداری سے انحراف کیا وہ قریب کی بلندیوں سے گر کر اسفل السافلین میں جا گرا۔( ز ) حضرت غوث الاعظم کا منکر کا فر ہے۔( مناقب تاج الاولیاء مصری صفحہ ۱۳) (ح) شیخین یعنی ابو بکر اور عمر کو برا کہنے سے کافر ہوتا ہے۔“ (مَا لَا بُدَّ مِنْهُ ( اردو ) شائع کردہ ملک دین محمد اینڈ سنز مصنفہ مولوی ثناء اللہ صاحب پانی پتی صفحه ۸۸) (ط) شیعوں کا عقیدہ ہے کہ بارہ اماموں پر ایمان لا نامدار نجات ہے۔ملاحظہ ہو حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔نَحْنُ قَوْمٌ اَمَرَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِطَاعَتِنَا وَ نَهَى عَنْ مَعْصِيَتِنَا نَحْنُ الْحُجَّةُ