مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 414 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 414

414 علیہ وسلم آسمان پر تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیاء اور اولیاء کی روحوں کو ان کے مقامات سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال و زیارت کے لیے بھیجا۔پھر جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عرش الہی کے قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ عرش الہی بہت بڑا اور اونچا ہے اور اس پر سیڑھی کے بغیر چڑھنا مشکل ہے۔پس آپ کو سیڑھی کی کی ضرورت پیش آئی تو یکدم اللہ تعالیٰ نے میری (غوث الاعظم کی ) روح کو بھیج دیا۔چنانچہ میں نے اپنا کندھا سیڑھی کی جگہ کر دیا پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھے پر پاؤں رکھنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے میرے بارے میں دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آپ کا بیٹا ہے اور اس کا نام عبد القادر ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عرش الہی تک حضرت غوث الاعظم کی مدد سے پہنچ سکے۔حضرت غوث الاعظم فرماتے ہیں:۔- وَمَا مِنْ نَبِي خَلَقَهُ اللهُ تَعَالَى وَلَا وَلِي إِلَّا وَقَدْ حَضَرَ مَجْلِسِئُ هَذَا الْأَحْيَاءُ بِابْدَانِهِمْ وَالْأَمْوَاتُ بِاَروَاحِهِمُ ) کتاب مناقب تاج الاولیاء مذکور صفحہ ۴۷ مصری ) کوئی ایک نبی یا ولی ایسا نہیں جو میری اس مجلس میں حاضر نہ آیا ہو ان میں سے جو زندہ ہیں وہ اپنے جسموں سمیتیہاں آئے اور جو فوت ہو چکے ہیں ان کی روحیں حاضر ہوئیں۔نوٹ:۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ تھے تو یقیناً وہ بھی آسمان پر سے اترے کر حضرت غوث الاعظم کی مجلس میں حاضر ہوئے ہوں گے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کم از کم ایک مرتبہ تو آسمان سے نزول فرما چکے ہیں۔اب دوبارہ آسمان پر چڑھنے کے لئے کس نص کی ضرورت ہے۔اس حاضری سے آنحضرت بھی مستی نہیں ہیں۔۵۔حضرت غوث الاعظم فرماتے ہیں۔هَذَا وُجُودُ جَدِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُجُودَ عَبْدَ الْقَادِرِ “ (کتاب المناقب تاج الاولیاء مصری صفحه ۳۵ گلدسته کرامات صفحه ۸) کہ یہ میرا اپنا عبدالقادر کا وجود نہیں بلکہ میرے نانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے۔٢ - " هُوَ مُتَصَرِّفٌ فِي التَّكْوِينِ بالاذن الْمُطْلَقِ (مناقب تاج الاولیاء مصری صفحه ۳۰) یعنی حضرت غوث الاعظم کو كُنْ فَيَكُون“ کا تصرف حاصل ہے۔لَهُ الأخلاقُ الْمُحَمَّدِيَّةُ وَالْحُسْنُ الْيُوسُفِيِّ۔وَالصِّدْقُ الصِّدِيقِيُّ وَالْعَدْلُ الْعُمَرِيُّ وَالْحِلْمُ الْعُثْمَانِيُّ وَالْعِلْمُ وَالشُّجَاعَةُ وَالْقُوَّةُ الْحَيْدَرِيَّةُ (مناقب تاج الاولياء