مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 392
392 اللہ کو چھوڑ کر یا میرے خلاف رہ کر کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔۲۔حدیث میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِى اَحَدُهُمَا أَسْوَدُ الْعَنُسِيُّ وَالْآخَرُ مُسَيْلَمَةُ بخارى كتاب المغازی باب وقد بني حنيفه ) یعنی آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ خواب میں میں نے سونے کے جو دو نگن دیکھے اور ان کو پھونک مارا کر اُڑایا۔تو اس کی تعبیر میں نے یہ کی کہ اس سے مراد دو کذاب ہیں جو میرے بعد نکلیں گے۔پہلا اسود عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ ہے اس حدیث میں آنحضرت صلعم نے يَخْرُجَانِ بَعْدِی فرمایا ہے کہ وہ دونوں کذاب میرے بعد نکلیں گے یہاں ”بعد" سے مراد غیر حاضری یا وفات نہیں بلکہ مخالفت ہے کیونکہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی دونوں آنحضرت صلعم ہی کی زندگی میں مدعی نبوت ہو کر آنحضرت صلعم کے بالمقابل کھڑے ہو گئے تھے چنانچہ اسی بخاری میں آنحضرت صلعم کی دوسری حدیث درج ہے۔فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ الذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ ( بخاری کتاب التعبير الرؤيا۔باب النفخ فى المنام وكتاب المغازى باب وفدبني حنيفه ) پس میں نے اس سے مراد لی دو کذاب۔جن کے میں اس وقت درمیان ہوں اسود عنسی اور 66 مسلمۃ الیمامی۔پس آنَا بَيْنَهُما صاف طور پر بتاتا ہے کہ دوسری روایت میں يَخْرُجَانِ بَعْدِی میں ” بعدی سے مراد میرے مد مقابل اور میرے مخالف ہی ہے نہ کہ وفات یا غیر حاضری۔پس لا نبی بعدی میں بھی بعدی سے مراد ہے کہ میرے مد مقابل اور مخالف ہو کر کوئی نبی نہیں آسکتا۔نوٹ:۔بعض غیر احمدی کہا کرتے میں کہ حدیث ہذا میں ” بعدی سے مراد میرا مخالف ہونا نہیں بلکہ یہاں ”بعد“ کا مضاف الیہ محذوف ہے یعنی مراد بَعدَ نُبُوَّتِی “ ہے کہ میری نبوت کے بعد نیز اسی طرح سے قرآن مجید کی آیات میں ” بعد اللہ “ کے لفظ میں بھی ”بعد“ کا مضاف الیہ محذوف ہے یعنی ”بَعْدَ آيَاتِ اللهِ‘ مراد ہے۔الجواب نمبر :۔یہ محض عربی زبان سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔کیونکہ قرآن مجید کی محولہ بالا آیات اور حدیث لا نَبِيّ بَعْدِی “ ہر دو میں بعد کا مضاف الیہ مذکور موجود ہے۔چنانچہ آیت میں بعد کا مضاف الیہ اللہ ہے اور حدیث میں ” بعد کا مضاف الیہ ہی ہے آیت مذکور میں تو بعد کا مضاف الیہ ایتِ اللهِ یا كتب الله کو قرار دینا اور بھی مضحکہ خیز ہے کیونکہ اس سے نہایت قبیح تکرار آیت قرآن میں مانا پڑتا ہے۔جو صریحانا قابل قبول ہے۔یعنی آیت یوں بن جائے