مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 381
381 نبی شرع ناسخ نہیں لاوے گا۔“ اقتراب الساعة مطبع مفید عام الکائنہ فی آگرہ ۱۳۰۱ صفحه ۱۶۲ مصنفہ نواب نور الحسن خان) غیر احمدی:۔حضرت و مرزا صاحب نے مسیح ابن مریم کوسلسلہ موسویہ کا ” خاتم الخلفاء“ قرار دیا ہے اور اپنے آپ کو سلسلہ محمدیہ کا خاتم الخلفاء قرار دیا ہے۔جواب : " خاتم الالخلفاء" کے معنی افضل الخلفاء کے ہیں۔آخری خلیفہ کے نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آپ کو اسی طرح سلسلہ محمدیہ کا خاتم الخلفاء قرار دیا ہے جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کو سلسلہ موسویہ کا۔اب سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعد سلسلہ خلافت تسلیم کیا ہے یا نہیں ؟ الف:۔تو ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ”حمامۃ البشری میں تحریر فرمایا ہے:۔،، يُسَافِرُ الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ أَوْ خَلِيفَةٌ مِّنْ خُلَفَائِهِ إِلَى أَرْضِ دِمَشْقَ۔“ ( حمامۃ البشری۔روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۲۵) کہ مسیح موعود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ دمشق کا سفر اختیار کرے گا۔نیز دیکھو پیغام صلح صفحہ ۳۱ و نیز ڈائری ۱۴ اپریل ۱۹۰۸ء) غرضیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعد سلسلہ خلافت تسلیم فرمایا ہے۔پس خاتم الخلفاء کے معنی آخری خلیفہ کے نہ ہوئے۔بلکہ افضل الخلفاء کے ہوئے۔ب:۔زیادہ وضاحت کے لئے اسی خطبہ الہامیہ میں حضرت اقدس فرماتے ہیں: "إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنَا خَاتَمُ الْأَوْلِيَاءِ لَا وَلِيٌّ بَعْدِى إِلَّا الَّذِي هُوَ مِنِّى وَعَلَى عَهْدِى “ خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۰ ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔میرے بعد کوئی ولی نہیں۔مگر وہی جو مجھ سے ہو اور میرے عہد پر قائم ہو۔غرضیکہ حضرت مرزا صاحب نے خاتم الانبیاء کا مفہوم بالکل واضح فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔مگر وہی جو آپ میں سے ہو اور آپ کے عہد پر آئے یعنی بالواسطہ بغیر شریعت کے۔سو یہی مذہب جماعت احمدیہ کا ہے۔خلافت کے متعلق تو حضرت بانی سلسلہ فرماتے ہیں:۔