مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 380
380 ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مہر کے کسی کو حاصل نہیں ہو گا۔“ (چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۸۸) اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا۔یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه۱۰۰ بقیه حاشیه ) غرضیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں سینکڑوں حوالجات موجود ہیں۔جن سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت اقدس نے جہاں آنحضرت صلعم کے بعد نبوت کو بند قرار دیا ہے۔وہاں محض تشریعی اور براہ راست نبوت مراد لی ہے۔اور جہاں حضرت اقدس نے نبوت کو جاری تسلیم فرما دیا ہے وہاں صرف غیر تشریعی اور بالواسطہ نبوت مراد لی ہے۔فَلا تَضَارَ۔66 غیر احمدی:۔حضرت مرزا صاحب نے لکھا ہے۔ا لا تَعْلَمُ أَنَّ الرَّبَّ الرَّحِيمَ الْمُتَفَضّلَ سَمَّى نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ اسْتَثْنَاءِ “۔(حمامتہ البشری۔روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۰۰) کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کا نام خاتم النبین بلا استثناء رکھا ہے غیر تشریعی نبوت کہاں گئی ؟ الجواب۔ہم آیت ” خاتم النبین “ کی بحث میں بدلائل قو یہ ثابت کر آئے ہیں کہ خاتم النبین کاترجمہ کا ترجمہ افضل النبين“ ہے پس حضرت اقدس کی عبارت کا اردو میں ترجمہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم کو افضل الانبیاء بلا استثناء قرار دیا ہے۔“ یعنی کوئی ایک بھی نبی ایسا نہیں جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم افضل نہ ہوں اسی طرح لا نَبِيَّ بَعْدِي“ والی حدیث کے متعلق بھی ہم ثابت کر آئے ہیں کہ اس کے معنی بھی یہی ہیں کی حضور کے خلاف بلا حضور کی اتباع کے نیز حضور کی طرح صاحب شریعت کوئی نہینہ آئے گا۔پس اس حوالہ سے تمہارا مقصد حاصل نہیں ہوتا لا نَبِيَّ بَعْدِی“ کا جو تر جمہ ہم نے کیا ہے وہ خود تمہارے بزرگ قبل از احمدیت کر چکے ہیں ملاحظہ ہو :۔ہاں لَا نَبِيَّ بَعْدِی“ آیا ہے۔اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی