مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 368
368 یعنی بالعرض ہو۔بالذات نہ ہو۔پس ہماری بحث صرف اس امر میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اور حضور کی غلامی اور متابعت میں کسی نبی کا آنا ہرگز لفظ ” خاتم النبیین “ کے خلاف نہیں ہے پھر یہ بات بھی غور کرنے کے لائق ہے کہ مولوی محمد قاسم صاحب فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئے گا۔“ ہم موجودہ دیوبندی علماء سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ بھی یہی الفاظ کہنے کے لئے تیار ہیں اور کیا آپ کا بھی یہی عقیدہ ہے؟ یقینا نہیں کیونکہ موجودہ دیوبندی علماء کا عقیدہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی نبی آنحضرت صلعم کے بعد پیدا ہو خواہ آپ کا غلام اور امتی ہو اور آپ کی پیروی کے ماتحت ہی نبی ہوا اور حضور اور حضور کی شریعت کا تابع ہو پھر بھی اس کی آمد سے ” خاتمیت محمدی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔اسی لئے تو آنحضرت صلعم کے ایک غلام اور امتی بانی سلسلہ احمدیہ کے خلاف تحفظ ختم نبوت“ کا سٹنٹ کھڑا کر رکھا ہے۔پس مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے حوالے صرف لفظ خاتم کے حقیقی معنوں کی تحقیق کے سلسلہ میں پیش کئے ہیں نہ کہ ان کے ذاتی عقیدہ کے اظہار کے لئے۔۲۱۔حضرت مولانا روم نے بھی خاتم کے معنی افضل ہی کئے ہیں۔فرماتے ہیں بہر ایں خاتم شد است او که بجود مثل اونے بود نے خواهند بود چونکه در صنعت بر داستا د دست تو نہ گوئی ختم صنعت بر تو ہست ( مثنوی مولانا روم دفتر ششم صفحه ۸ مطبوعه نولکشو ر ۱۸۹۶ء مفصل دیکھو پاکٹ بک ہذا صفحه ۳۵۵) ۲۲ تفسیر حسینی المعروف بہ تفسیر قادری میں ہے:۔عین الا جو بہ میں لکھا ہے کہ ہر نوشتے کی صحت مہر کے سبب سے ہے اور حق تعالیٰ نے پیغمبر کو مہر کہا تا کہ لوگ جان لیں کہ محبت الہی کے دعوی کی تصیح آپ کی متابعت ہی سے کر سکتے ہیں ان كنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونى يخبكُمُ الله ہر کتاب کا شرف اور بزرگی مہر کے سبب سے ہے تو سب پیغمبروں کو شرف حضرت کی ذات سے ہے اور ہر کتبہ کی گواہ اس کی مہر ہوتی ہے تو محکمہ قیامت میں گواہ آپ ہوں گے۔“ ( تفسیر حسینی مترجم اردو جلد اصفحه ۲۰۲ زیر آیت خاتم النبین سورۃ احزاب) پس اس عبارت سے ”خاتم النبین“ کے معنی مصدق الانبیاء اور افضل الانبیاء اور شاہد الانبیاء ثابت ہوئے۔پس اگر اس آیت کے بقول تمہارے ایک معنی آخری کے بھی ہوتے تب بھی إِذَا جَاءَ الاحْتِمَالُ بَطَلَ الاستدلال کے اصل کے ماتحت یہ آیت انقطاع نبوت پر دلیل نہیں بن سکتی تھی