مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 367
367 غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔“ تحذیر الناس از مولونا محمد قاسم نانوتوی صفحه ۱۴۰۱۳ مطبع کتب خانہ رحیمیہ دیو بند سہارنپور ) پھر نتیجہ اس تمام بحث کا ان الفاظ میں نکالتے ہیں :۔ہاں اگر خاتمیت ہمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا اس بیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اور کسی کو افراد مقصود بالتخلق میں سے مماثل نبوی صلم نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کی افراد خارجی ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہ ہوگی، افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ تحذیر الناس از مولونا محمد قاسم نانوتوی صفحه ۲۵ مطبع کتب خانہ رحیمیہ دیو بند سہارنپور) نوٹ:۔صفحات کا نمبر اس ایڈیشن کا دیا گیا ہے جو مطبع قاسمی دیو بند کا مطبوعہ ہے اور تحذیر الناس مطبوعہ خیر خواہ سر کا رسہارنپور میں آخری عبارت بجائے صفحہ ۲۵ کے صفحہ ۲۸ پر ہے۔(خادم) ان سب عبارات سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے نزد یک خاتم النبیین کے معنی آخری نبی یا نبیوں کا بند کرنے والا نہیں بلکہ افضل الانبیاء ”نبی الابنیاء ابوالانبیاء اور موصوف بوصف نبوت بالذات“ کے ہیں۔نوٹ: بعض غیر احمدی علماء یہاں پر یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مولوی محمد قاسم نانوتوی کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔سو اس مغالطہ کا جواب یہ ہے کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے اپنے عقیدہ کی یہاں بحث نہیں بلکہ لفظ ” خاتم “ کے حقیقی اور اصلی معنوں کی ہے اور جیسا کہ اوپر ثابت کیا جا رہا ہے لفظ خاتم النبین“ کے معنی مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بھی بعینہ وہی بیان کرتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔پھر ان کی مندرجہ بالا عبارت میں لفظ ”پیدا“ ہو سب سے بڑھ کر قابل غور ہے کیونکہ یہاں یہ تاویل پیش نہیں کی جاسکتی کہ نزول مسیح کے عقیدہ کے پیش نظر ایسا لکھا گیا۔اس میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا بھی خاتمیت کے منافی نہیں۔بشرطیکہ اس کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے مستفاض ہو۔