مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 327
327 ہوئے چنانچہ تفسیر بحرالمحیط ( مؤلفہ محمد بن یوسف ) اندلی میں لکھا ہے: وَ قَوْلُهُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ تَفْسِيرٌ لِقَوْلِهِ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ وَالظَّاهِرُ أَنَّ قَوْلَهُ مِنَ النَّبِيِّينَ تَفْسِيرٌ لِلَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ فَكَأَنَّهُ قِيْلَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْكُمُ الْحَقَهُ اللَّهُ بِالَّذِينَ تَقَدَّمَهُمْ مِمَّنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمُ۔قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمُ مِنَ الْفِرَقِ الْأَرْبَعِ فِي الْمَنْزِلَةِ وَالثَّوَابِ النَّبِيُّ بِالنَّبِيِّ وَالصِّدِّيقُ بِالصِّدِّيقِ وَالشَّهِيدُ بِالشَّهِيدِ وَالصَّالِحُ بِالصَّالِحِ وَ أَجَازَ الرَّاغِبُ اَنْ يَّتَعَلَّقَ مِنَ النَّبِيِّينَ بِقَوْلِهِ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ اى مِنَ النَّبِيِّينَ وَ مِنْ بَعْدِهِمُ (تفسير البحر المحيط زیر آیت وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهِ وَالرَّسُولَ۔النساء : ۶۹ ) یعنی خدا کا فرمانا کہ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ “ “ یہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی تفسیر ہے اور یہ ظاہر ہے کہ خدا کا قول مِنَ النَّبِيِّينَ تفسیر ہے۔اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ کی۔گویا یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم میں سے جو شخص اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا۔اللہ تعالیٰ اس کو ان لوگوں میں شامل کر دے گا جن پر قبل از میں انعامات ہوئے اور امام راغب نے کہا ہے کہ ان چار گروہوں میں شامل کرے گا مقام اور نیکی کے لحاظ سے۔نبی کو نبی کے ساتھ اور صدیق کو صدیق کے ساتھ اور شہید کو شہید کے ساتھ اور صالح کو صالح کے ساتھ۔اور راغب نے جائز قرار دیا ہے کہ اس امت کے نبی بھی نبیوں میں شامل ہوں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ یعنی مِنَ النَّبِيِّينَ ( نبیوں میں سے )۔اس حوالہ سے صاف طور پر حضرت امام راغب کا مذہب ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس امت میں بھی انبیاء کی آمد کے قائل تھے۔چنانچہ اس عبارت کے آگے مؤلف البحر المحیط ( محمد بن یوسف بن علی بن حیان الاندلسی جو۴ ۷۵ھ میں فوت ہوئے ) نے امام راغب کے مندرجہ بالا قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راغب کے اس قول سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی آپ کی امت میں سے بعض غیر تشریعی نبی پیدا ہوں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے۔اس پر مصنف اپنا مذہب لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ درست نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے۔لیکن ہمیں مؤلف بحر الحیط یعنی محمد بن یوسف الاندلسی کے اپنے عقیدہ سے سروکار نہیں ہمیں تو