مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 326
326 کے افراد کرتے رہتے ہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تو صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے بھی کی۔پھر مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ والی آیت کے ماتحت ان سب کو نبوت ملنی چاہیئے تھی ؟ الجواب نمبر 1:۔اس کا جواب یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام: ۱۲۵) کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر جانتا ہے کہ کس کو نبی بنائے ، کب نبی بنائے اور کہاں نبی بنائے؟ الجواب نمبر ۲:۔اللہ تعالیٰ سورۃ نور میں فرماتا ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلِحَتِ لَيَستَخْلِفَتهُم فِي الْأَرْضِ ( النور : (۵۶) کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور اعمال صالحہ بجالانے والے مسلمانوں کے ساتھ وعدہ کرتا ہے کہ ان سب کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔اب ظاہر ہے کہ آیت استخلاف مندرجہ بالا کی رو سے خلیفہ صرف حضرت ابوبکر، عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم ہی ہوئے۔کیا تمام صحابہ میں صرف یہ چار مومن باعمل تھے؟ کیا حضرت عائشہ، حضرت فاطمہ ، حضرت بلال، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ، طلحہ، زبیر رضوان اللہ علیہم وغیرہ صحابہ نعوذ باللہ مومن نہ تھے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک یہ سب مومن تھے لیکن خلافت اللہ کی دین ہے جس کو چاہے دے لیکن وعدہ عام ہے جس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اب نبوت وخلافت صرف انہی لوگوں کو مل سکتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانبردار ہوں۔اس کے بغیر نہیں مل سکتی۔علاوہ ازیں جب کسی قوم سے ایک شخص نبی ہو جائے تو وہ انعام نبوت سب قوم پر ہی سمجھا جاتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول قرآن مجید میں ہے: يقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاء (المائدة: ۲۱) کہ اے قوم اس نعمت کو یاد کرو جو خدا نے تم پر نازل کی جب کہ اس نے تم میں سے نبی بنائے۔گویا کسی قوم میں سے کسی شخص کا نبی ہونا اس تمام قوم پر خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھا جاتا ہے۔پس صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ والی آیات میں جس نعمت نبوت کا وعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دیا گیا ہے اس کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر کوئی نبی بنے بلکہ صرف اس قدر ضروری ہے کہ اس امت میں سے بھی ضرور نبوت کی نعمت کسی فرد پر نازل کی جائے۔ہمارے ترجمہ کی تائید حضرت امام راغب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کے وہی معنے بیان کئے ہیں جو اوپر بیان