مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 79
79 جواب: اس فقرہ کے معنے بالکل صاف ہیں کہ اے یہودیو! میں نبی ہوں۔میرے علوم آسمانی ہیں اور تم زمینی علوم پر مٹے ہوئے ہو۔تم میرا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہو۔یہ ایک عام محاورہ ہے۔اردو میں بھی مستعمل ہے۔دیکھو ہم ایک شخص کوز مینی یا دنیا دار کہتے ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ زمین میں اور دنیا میں رہتا ہے کیونکہ زمین اور دنیا میں تو نیک بھی رہتے ہیں۔مسیح بھی تھیں برس تک ہمارے نزدیک ۱۲۰ برس تک ) اسی دنیا میں رہا۔بلکہ اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ یہ شخص خدا سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ دنیا سے محبت کرتا ہے۔اسی طرح مسیح نے بھی یہودیوں کو کہا کہ میں تمہاری طرح تقلیدی علوم کا اور زمینی فنون کا وارث نہیں بلکہ میں آسمانی علوم کا وارث ہوں لیکن اگر عیسائی خواہ مخواہ ضد سے اس فقرے سے مسیح کی الوہیت ثابت کرنا چاہیں تو وہ یا درکھیں کہ اس بات میں بھی مسیح کی خصوصیت نہیں بلکہ تمام نیک لوگ اور حواری اس بات میں شامل ہیں۔دیکھو حوالے : ا میسج حواریوں کے متعلق خدا سے دعا میں عرض کرتا ہے:۔اس لئے کہ جیسا میں دنیا کا نہیں ہوں وے بھی دنیا کے نہیں ہیں۔“ (یوحنا باب ۱۷ آیت ۱۴) اب اگر اس دنیا کا نہ ہونے کی وجہ سے مسیح خدا ہو۔تو پھر تمام حواری بھی اسی وجہ سے خدا سمجھنے چاہئیں۔میں ہے۔۲۔ایک جگہ مسیح حواریوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :۔اس لئے کہ دنیا کے نہیں ہو۔“ ( یوحنا باب ۱۵ آیت ۱۹) چوتھی دلیل: مسیح کہتا ہے کہ میں اور باپ ایک ہیں۔میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ جواب: یہ الفاظ اگر مسیح کی خدائی کا ثبوت بن سکتے ہیں تو تمام لوگ جن کے متعلق انجیل میں خود یسوع نے ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں وہ بھی خدائی کے مستحق ہیں۔دیکھو حوالہ :۔ا مسیح خدا کے حضور حواریوں کی سفارش کرتا ہوا ایک جگہ کہتا ہے۔تا کہ وہ سب ایک ہو جاویں۔جیسا کہ اے باپ تو مجھ میں ہے اور میں تجھ میں ہوں کہ وہ بھی ہم میں ایک ہوں۔“ (یوحنا باب ۱۷ آیت ۲۱ تا ۲۳) اب اگر ایک ہو جانے کے لفظ سے کوئی خدا بن سکتا ہے تو تمام حواری بھی خدا ہونے