فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 275

ملفوظات 275 فلسطین سے کشمیر تک ہے جو صحابہ شاعت العسر میں دکھاتے تھے ؛ اگر چہ اشتہار میں میں نے چند دوستوں کے نام لکھے ہیں، جنھوں نے اپنے صدق و ہمت کا نمونہ دکھایا ہے، لیکن اس سے یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ میں دوسروں سے بے خبر ہوں یا اُن کی خدمات کو قابلِ قدر نہیں سمجھتا۔میں خوب جانتا ہوں کہ کون سرگرمی اور اخلاص کے ساتھ میری راہ میں دوڑتا ہے۔میں چونکہ بیمار تھا اور ابھی تک طبیعت ناساز ہے، اس لئے میں پوری تفصیل نہ دے سکا اور نہ مختصر سے اشتہار میں اتنی تفصیل ہو سکتی تھی۔پس جن لوگوں کے نام درج نہیں ہوئے۔اُن کو افسوس نہیں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اُن کے صدق اور اخلاص کو خوب جانتا ہے۔مالی قربانی محض اللہ ہو: اگر کوئی شخص اس غرض کے لئے چندہ دیتا ہے یا ہماری دینی ضروریات میں شریک ہوتا ہے کہ اُس کا نام شائع کیا جائے ، تو یقینا سمجھو کہ وہ دُنیا کی شہرت اور نام و نمود کا خواہشمند ہے، لیکن جو شخص محض اللہ تعالیٰ کے لئے اس راہ میں قدم رکھتا ہے اور خدمت دین کے لئے کمر بستہ ہوتا ہے، اُس کو اس بات کی کچھ بھی پروانہیں ہوتی۔دُنیا کے نام کچھ حقیقت اور اثر اپنے اندر نہیں رکھتے ہیں۔نام وہی بہتر ہوتے ہیں، جو آسمان پر رکھے جائیں۔کاغذات کا کیا اثر ہے۔ایک دن ہوتے ہیں اور دوسرے دن ضائع ہو جاتے ہیں، لیکن جو کچھ آسمان پر لکھا جاتا ہے وہ کبھی محو نہیں ہوسکتا۔اس کا اثر ابدالآباد کے لئے ہوتا ہے، میرے بہت سے مخلص احباب ایسے ہیں جن کو تم میں سے شاید بہت ہی کم جانتے ہوں لیکن انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔مثلاً میں نظیر کے طور پر کہتا ہوں کہ مرزا یوسف بیگ صاحب میرے بہت ہی مخلص اور صادق دوست ہیں۔میں نے اُن کا ذکر اس واسطے کیا ہے کہ اس طرح پر بھائیوں میں باہم تعارف بڑھتا ہے اور محبت پیدا ہوتی ہے۔مرزا صاحب اس وقت سے میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جبکہ میں گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔میں دیکھتا ہوں کہ اُن کا دل محبت اور اخلاص سے بھرا ہوا ہے اور وہ ہر وقت سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے اندر ایک جوش رکھتے ہیں۔ایسا ہی اور بہت سے عزیز دوست ہیں اور سب اپنے اپنے ایمان اور معرفت کے موافق اخلاص اور جوشِ محبت سے لبریز ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 221 تا 226)