فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 274
ملفوظات 274 فلسطین سے کشمیر تک ہے، کہ اس سفر سے کون زندہ آئے گا۔چھوٹے چھوٹے بچے اور بیویوں اور دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر جانا کوئی سہل بات نہیں ہے۔اپنے کاروبار اور اپنے معاملات کو ابتری اور پریشانی کی حالت میں چھوڑ کر ان لوگوں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے اور انشراح صدر سے اختیار کیا ہے۔جس کے لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ بڑا ثواب ہے۔ایک تو سفر کا ثواب ہے، کیونکہ یہ سفر محض خدا تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے اظہار کے واسطے ہے۔دوسرے اس سفر میں جو جو مشقتیں اور تکالیف ان لوگوں کو اٹھانی پڑیں گی ، ان کا بھی ثواب ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، جبکہ مَنْ يَعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَّرَه (الزلزال: ۸) کے موافق وہ کسی کی ذرہ بھر نیکی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا، تو اتنا بڑا سفر جو اپنے اندر ہجرت کا نمونہ رکھتا ہے۔اس کا اجر کبھی ضائع ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ہاں یہ ضروری ہے کہ صدق اور اخلاص ہو۔ریا اور دوسرے اغراض شہرت و نمود کے نہ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ برو بحر کے شدائد و مصائب کو برداشت کرنا اور ایک موت کو قبول کر لینا بجز صدق کے نہیں ہو سکتا۔بہت سے بھائی ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں گے اور میں بھی ان کے واسطے دعاوں میں مصروف رہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس مقصد میں کامیاب کرے اور خیر و عافیت سے واپس لاوے اور سچ تو یہ ہے کہ ملائکہ بھی ان کے واسطے دعائیں کریں گے اور وہ ان کے ساتھ ہوں گے۔جماعت کی مروت اور ہمت : اب میں یہ بھی ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اس موقع پر ہماری جماعت نے دو قسم کی مروت اور ہمت دکھائی ہے۔ایک تو یہ گروہ ہے جنہوں نے سفر اختیار کیا اور اپنے آپ کو سفر کے خطرات میں ڈالا ہے اور ان مصائب اور شدائد کے برداشت کرنے کو تیار ہو گئے ہیں جو اس راہ میں انہیں پیش آئیں گی۔دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے میری دینی اغراض و مقاصد میں ہمیشہ دل کھول کر چندے دئے ہیں۔میں کچھ ضرورت نہیں سمجھتا کہ تفصیل کروں، کیونکہ ہر شخص کم و بیش اپنی استطاعت اور مقدرت کے موافق حصہ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس اخلاص اور وفاداری سے ان چندوں میں شریک ہوتے ہیں۔میں یہ خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت نے وہ صدق اور وفا دکھایا