فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 276

ملفوظات 276 فلسطین سے کشمیر تک (19، اپریل 1901ء) 19، اپریل 1901 ء کولاہور سے فورمن کالج اور امریکی مشن کے دو پادری مع ایک دیسی عیسائی کے قادیان آئے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود سے بھی ملے اور انہوں نے کچھ سوالات حضور سے کئے جن کا جواب حضرت اقدس دیتے رہے۔(ان میں سے ہجرت مسیح سے متعلقہ حصہ پیش ہے) مسیح کا واقعہ صلیب : سوال: آپ کا خیال مسیح کی صلیب کی نسبت کیا ہے؟ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 487 تا 488) جواب: میں اس کو نہیں مانتا کہ وہ صلیب پر مرے ہوں بلکہ میری تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور خود مسیح علیہ السلام بھی میری رائے سے متفق ہیں۔حضرت مسیح کا بڑا معجزہ یہی تھا کہ وہ صلیب پر نہیں مریں گے، کیونکہ یونس نبی کے نشان کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔اب اگر یہ مان لیا جائے جیسا کہ عیسائیوں نے غلطی سے مان رکھا ہے کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے تو پھر یہ نشان کہاں گیا اور یونس نبی کے ساتھ مماثلت کیسی ہوئی ؟ یہ کہنا کہ وہ قبر میں داخل ہو کر تین دن کے بعد زندہ ہوئے۔بہت بے ہودہ بات ہے۔اس لئے کہ یونس تو مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے تھے، نہ مرکر۔یہ نبی کی بے ادبی ہے۔اگر ہم اس کی تاویل کرنے لگیں۔اصل بات یہی ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتر آئے۔ہر ایک سلیم الفطرت انسان کو واجب ہے کہ جو کچھ مسیح نے صاف لفظوں میں کہا اس کو محکم طور پر پکڑیں۔حضرت عیسی“ پر ایک غشی کی حالت تھی۔انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اور اسباب اور واقعات بھی اس قسم کے پیش آگئے تھے کہ وہ صلیب کی موت سے بچ جائیں؛ چنانچہ سبت کے شروع ہونے کا خیال۔حاکم کا مسیح کے خون سے ہاتھ دھونا۔اس کی بیوی کا خواب دیکھنا وغیرہ۔خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھا دیا ہے کہ ایک بہت بڑاذ خیرہ دلائل و براہین کا دیا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہرگز ہرگز صلیب پر نہیں مرے۔صلیب پر سے زندہ اتر آئے۔غشی کی