فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 270

ملفوظات 270 فلسطین سے کشمیر تک عیسی ابن مریم کے متعلق اصل حقائق بمنجملہ ان کے ایک یہی مسئلہ ہے جو مسیح کے آسمان پر جانے کے متعلق ہے اور جس میں بدقسمتی سے بعض مسلمان بھی ان کے شریک ہو گئے ہیں۔اسی ایک مسئلے پر عیسائیت کا دارو مدار ہے کیونکہ عیسائیت کی نجات کا مدار اسی صلیب پر ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ مسیح ہمارے لئے مصلوب ہوا اور پھر وہ زندہ ہوکر آسمان پر چلا گیا، جوگو یا اس کی خدائی کی دلیل ہے۔جن مسلمانوں نے اپنی غلطی سے ان لوگوں کا ساتھ دیا ہے۔وہ یہ تو نہیں مانتے کہ مسیح صلیب پر مر گیا، مگر وہ اتنا ضرور مانتے ہیں کہ وہ زندہ (بجسد عصری ) آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔لیکن جو حقیقت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اپنے ہمعصر یہودیوں کے ہاتھوں سخت ستایا گیا۔جس طرح پر راستباز لوگ اپنے زمانہ میں نادان مخالفوں کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں اور آخران یہودیوں نے اپنی منصوبہ بازی اور شرارتوں سے یہ کوشش کی کہ کسی طرح پر آپ کا خاتمہ کر دیں اور آپ کو مصلوب کرا دیں۔بظاہر وہ اپنی ان تجاویز میں کامیاب ہو گئے، کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم کو صلیب پر چڑھائے جانے کا حکم دیدیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے جو اپنے راستبازوں اور ماموروں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ان کو اس لعنت سے جو صلیب کی موت کے ساتھ وابستہ تھی بچالیا اور ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ وہ اس صلیب پر سے زندہ اُتر آئے۔اس امر کے ثبوت کے لیے بہت سے دلائل ہیں جو خاص انجیل سے ہی مل سکتے ہیں لیکن اس وقت ان کا بیان کرنا میری غرض نہیں ہے، جو شخص ان واقعات پر جو صلیب کے متعلق انجیل میں درج ہیں ،غور کرے گا۔تو ان کے پڑھنے سے اُسے صاف معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح ابن مریم صلیب پر سے زندہ اُتر آئے تھے اور پھر یہ خیال کر کے کہ اس ملک میں اُن کے بہت سے دشمن تھے اور دشمن بھی وہ جو اُن کے جانی دشمن تھے اور جیسا کہ وہ پہلے کہہ چکے تھے کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا، مگر اپنے وطن میں جس سے ان کی ہجرت کا پتہ چلتا ہے کہ اُنھوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس ملک کو چھوڑ دیں اور اپنے فرض رسالت کو پورا کرنے کے لیے وہ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں نکلے اور نصیبین کی طرف سے ہوتے ہوئے