فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 269

ملفوظات 269 فلسطین سے کشمیر تک (12 ،14،13 نومبر 1899ء) جلسہ الوداع کی تقریب پر حضرت اقدس کی تقریر بعثت کی غرض: حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ صلیب سے اتر آنے اور اس حادثہ سے بچ جانے کا قرآن شریف میں صحیح اور یقینی علم دیا گیا ہے ،مگر افسوس ہے کہ پچھلے ہزار برس میں جہاں اسلام پر اور بہت سی آفتیں آئیں۔وہاں یہ مسلہ بھی تاریکی میں پڑ گیا اور مسلمانوں میں بدقسمتی سے یہ خیال راسخ ہو گیا کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور وہ قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے ، مگر اس چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا تا کہ میں اندرونی طور پر جو غلطیاں مسلمانوں میں پیدا ہو گئیں ہیں، ان کو دور کروں اور اسلام کی حقیقت دنیا پر واضح کروں اور بیرونی طور پر جو اعتراضات اسلام پر کئے جاتے ہیں۔ان کا جواب دوں اور دوسرے مذاہب باطلہ کی حقیقت کھول کر دکھاؤں۔خصیصیت کے ساتھ وہ مذہب جوصلیبی مذہب ہے یعنی عیسائی مذہب، اس کے غلط اعتقادات کا استیصال کروں جو انسان کے لئے خطر ناک طور پر مضر ہیں اور انسان کی روحانی قوتوں کی نشو و نما اور ترقیات کے لئے ایک روک ہیں۔ے۔جن دنوں حضرت مسیح موعود کتاب ” مسیح ہندوستان میں تالیف کر رہے تھے انہیں ایام میں معلوم ہوا کہ نصیبین ( ملک عراق عرب ) میں حضرت مسیح ناصرتی کے بعض آثار موجود ہیں۔جن سے اُن کے اس سفر کا پتہ ملتا ہے اور تصدیق ہوتی ہے کہ وہ کشمیر میں آکر رہے۔حضرت مسیح موعود نے قرین مصلحت سمجھا تھا کہ ایک کمیشن ( وفد ) بھیجا جائے جوان آثار و حالات کی خود تفتیش اور تحقیقات کرے اور پھر اُسی راستہ سے جو حضرت مسیح نے کشمیر آنے کے لئے تجویز کیا تھا۔واپس ہوتے ہوئے قادیان پہنچ جائے۔اس وفد کو رخصت اور وداع کرنے کے لئے ایک جلسہ تجویز ہوا تھا جس کا نام جلستہ الوداع رکھا گیا تھا؛ اگر چہ بعض پیش آمدہ امور ضروریہ کی وجہ سے اس کمیشن کا بھیجا جانا ملتوی ہو گیا۔مگر یہ جلسہ 12 ، 13 ، 14 نومبر 1899ء کو خوب دھوم دھام سے ہوا۔اس میں آپ نے یہ تقریر فرمائی۔