فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 271

ملفوظات 271 فلسطین سے کشمیر تک افغانستان کے راستہ کشمیر میں آکر بنی اسرائیل کو جو کشمیر میں موجود تھے تبلیغ کرتے رہے اور اُن کی اصلاح کی اور آخر کار اُن میں ہی وفات پائی۔یہ امر ہے جو مجھ پر کھولا گیا ہے۔اس مسئلہ کی اہمیت : اس ایک مسئلہ سے ہی عیسائیت کا ستون ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ جب صلیب پر مسیح کی موت ہی نہیں ہوئی اور وہ تین دن کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر گئے ہی نہیں، تو الوہیت اور کفارہ کی عمارت توبیخ و بنیاد سے گر پڑی اور مسلمانوں کا غلط خیال (جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سخت تو ہین ہوتی تھی کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر دوبارہ نازل ہوں گے ؛ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتا جس کی نبوت پر آپ کی مہر نہ ہو بھی دور ہو گیا۔اور قرآن شریف کی اصل اور پاک تعلیم کچی ثابت ہوگئی۔کیونکہ قرآن شریف میں تو مسیح کا صاف اقرار فلما تو فیتنی کا موجود ہے، جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔وفات مسیح کے مسئلہ پر زور دینے کی وجہ: یہی وجہ ہے کہ ہم وفات مسیح کے مسئلہ پر زیادہ زور دیتے ہیں، کیونکہ اسی موت کے ساتھ عیسائی مذہب کی بھی موت ہے اور اسی غرض سے میں نے کتاب " مسیح ہندوستان میں لکھنی شروع کی ہے اور اس کتاب کے بعض مطالب کی تکمیل کے لیے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنی جماعت میں سے چند آدمیوں کو بھیجوں۔جو اُن علاقہ جات میں جا کر ان آثار کا پتہ لگا ئیں، جن کا وہاں موجود ہونا بتایا جاتا ہے؛ چنانچہ اس غرض کو مد نظر رکھ کر ہم نے یہ جلسہ کیا ہے، تا کہ ان دوستوں کو رخصت کرنے کے لیے پہلے ہم سب مل کر اُن کے لیے دعائیں کریں کہ وہ خیر وعافیت کے ساتھ اس مبارک سفر کے لیے رخصت ہوں اور کامیاب ہو کر واپس آئیں۔حضرت مسیح کا واقعہ صلیب کے بعد نصیبین جانا: اگر چہ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سفر جو تجویز کیا گیا ہے۔اگر نہ بھی کیا جاتا تو بھی خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے اس قدر شواہد اور دلائل ہم کو اس امر کے لیے دیدیئے ہیں ، جن کو مخالف کا قلم اور زبان تو نہیں سکتی ، لیکن مومن ہمیشہ ترقیات کی خواہش کرتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ حقائق اور معارف کا بھوکا پیاسا ہوتا ہے۔کبھی ان سے سیر نہیں ہوتا۔اس لیے ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ جس