فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 267
مکتوبات احمد 267 فلسطین سے کشمیر تک سے کشمیر کی طرف گئے تھے۔ایک بڑا ضروری کام جس کے لیے مجھے اپنے ہاتھ سے یہ خط لکھنا پڑا یہ ہے کہ اس خط میں لکھا ہے کہ آسف نبی کے نام پر اب تک تخت کابل سے کچھ جا گیر چبوترہ کے نام مقرر ہے جس سے ظاہر ہے کہ دفتر کابل میں یوز آسف نبی کا ضرور ذکر ہوگا اور یہ بھی یقینی امر ہے کہ مجاوروں کے پاس جو سندات ہوں گے اس میں بھی اس کا ذکر ہو گا۔خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ محمود غزنوی نے اس چبوترہ کی دوبارہ مرمت کی تھی کچھ تعجب نہیں کہ خواب آیا ہوتا ہمارے وقت تک یہ یاد گار باقی رہ جائے کیا مولوی غلام حسن صاحب آپ کو کچھ بھی مدد نہیں دے سکتے۔نہایت جائے افسوس ہے یہ تو خدا نے ایک باطل طلسم کو توڑنے کے لیے ایک آسمانی حربہ نکالا ہے اس کی تائید سے برابر دنیا میں اور کوئی شے نہیں جس کے اثر سے چالیس کروڑ انسان کی اصلاح ہو سکے۔بہت جلد جواب آنا چاہیے۔آپ کے قادیان میں کس قدر دعوے تھے اب ان کی ایفاء کا وقت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد یہ تدبیر نکالنی چاہیے کہ کیونکر ہم کسی شاہی تحریر یا مجاوروں کی سند کی نقل لے سکیں۔غیر مطبوعہ خط۔ماخذ خلافت لائبریری ربوہ )