فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 266
مکتوبات احمد 266 فلسطین سے کشمیر تک د نیوی سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔کشمیر سے خلیفہ نور دین صاحب تحقیقات کر کے آگئے ہیں۔پانسو چھپین آدمی کی گواہی سے ثابت ہوا کہ وہ قبر جس کا ذکر رسالہ میں کیا گیا ہے مختلف ناموں سے مشہور ہے بعض یوز آسف نبی کی قبر کہتے اور بعض شہزادہ نبی کی قبر اور بعض عیسی صاحب کی قبر اور اب عنقریب تین آدمی سفر خرچ کے انتظام کے بعد نصیبین کی طرف روانہ ہوں گے اور اس سے پہلے جلسہ ہو گا جس کی تاریخ ۱۲ نومبر ۱۸۹۹ء قرار پائی ہے۔اس جلسہ سے چند روز بعد یہ تینوں روانہ ہو جائیں گے۔باقی خیریت ہے۔۲ اکتوبر ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان (مکتوب نمبر 78، مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 407) مکتوب بنام خواجہ کمال الدین صاحب بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی اخویم خواجہ کمال الدین آنمکرم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ایک معتبر اور مخلص کا خط جس میں یوز آسف کا بیان ہے آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں مگر افسوس کہ یہ پتہ پشاور سے نہ مل سکا وجہ یہی ہے کہ آپ مسافر تھے اور پشاور کے باشندہ نہیں تھے اس لیے پوری توجہ نہیں دے سکے اب وقت بہت تنگ ہے یہ خط اس غرض سے بھیجتا ہوں کہ اس تحریر کو دیکھ کر آپ اور گواہ پشاور میں سے پیدا کریں اور نہ تجویز یہ ہے کہ اس جگہ سے کوئی عالی ہمت دوست شیطان گمل میں بھیج دوں۔یہ واقعہ صحیح ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یوز آسف یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اس راہ