فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 265
مکتوبات احمد 265 فلسطین سے کشمیر تک باور نہیں کرتا کہ یہ دعائیں میری قبول نہ ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے آپ اس گھڑی کے یقین دل سے منتظر ر ہیں جبکہ دعاؤں کی قبولیت ظاہر ہو۔ایک بڑے یقین کے ساتھ انتظار کرنا بڑا اثر رکھتا ہے۔میں آپ کو نہیں بتلا سکتا کہ میں آپ کے لئے کس توجہ سے دعا کرتا ہوں۔یہ حالت خدا تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ان دنوں میں میری طبیعت بہت بیمار ہو گئی تھی ایک دفعہ مرض کا خطرناک حملہ بھی ہوا تھا۔مگر شکر باری ہے کہ اس وقت میں بھی میں نے بہت دعا کی ہے اور اب تک طبیعت بہت کمزور ہے اس لئے کتاب کی تالیف میں بھی حرج ہے۔ایک نہایت ضروری امر کے لئے آپ کو لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ مدراس میں ایک میلہ یوز آسف کا سال بسال ہوا کرتا ہے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ میلہ کرتے ہیں وہ یوز آسف کس کو کہتے ہیں اور کس مرتبہ کا انسان اس کو سمجھتے ہیں اور نیز ان کا کیا اعتقاد ہے کہ وہ کہاں سے آیا تھا اور کس قوم میں سے تھا۔اور کیا مذہب رکھتا تھا اور نیز یہ کہ کیا اس جگہ کوئی یوز آسف کا کوئی مقام موجود ہے اور کیا ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی تحریریں ہیں جن سے یوز آسف کے سوانح معلوم ہوسکیں اور ایسا ہی دوسرے حالات جہاں تک ممکن ہو سکے دریافت کر کے جلد تر مجھ کو اس سے اطلاع بخشیں کیونکہ اس وقت کہ جواب آوے یہ کتاب معرض التوا میں رہے گی۔اور میں نے باوجود ضعف طبیعت کے نہایت ضروری سمجھ کر یہ خط لکھا ہے۔اللہ تعالیٰ خیر وعافیت سے اس خط کو پہنچاوے۔باقی خیریت ہے۔والسلام اار جون ۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمد مکتوب نمبر 66، مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 395) (2اکتوبر 1899ء) مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔مبلغ سور و پیہ مرسلہ آئمکرم پہنچا۔اللہ تعالیٰ آپ کو بہت بہت جزا بخشے اور آفات دینی اور