فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 263
مکتوبات احمد 263 فلسطین سے کشمیر تک (29 اگست 1899 ء) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ، تعالی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته مرزا خدا بخش کونصیبین میں بھیجنے کی پختہ تجویز ہے۔خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے کئی موقعے ہوتے ہیں۔جو ہر وقت ہاتھ نہیں آتے۔کیا تعجب کہ خدا تعالیٰ آپ کی اس خدمت سے آپ پر راضی ہو جاوے اور دین اور دنیا میں آپ پر برکات نازل کرے کہ آپ چند ماہ اپنے ملازم خاص کو خدا تعالیٰ کا ملازم ٹھہرا کر اور بدستور تمام بوجھ اس کی تنخواہ اور سفر خرچ کا اپنے ذمہ پر رکھ کر اس کو روانہ نصیبین وغیرہ ممالک بلا د شام کریں۔میرے نزدیک یہ موقعہ ثواب کا آپ کے لئے وہ ہوگا کہ شائد پھر عمر بھر ایسا موقعہ ہاتھ نہ آوے۔مگر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جانے سے پہلے دس ہیں دن میرے پاس رہیں تا وقتاً فوقتاً ضروری یادداشتیں لکھ لیں۔کیونکہ جس جگہ جائیں گے وہاں ڈاک نہیں پہنچ سکتی۔جو کچھ سمجھایا جائے گا پہلے ہی سمجھایا جائے گا۔اور میرے لئے یہ مشکل ہے کہ سب کچھ مجھے ہی سمجھانا ہوتا ہے اور ابھی تک ہماری جماعت کے آدمی اپنے دماغ سے کم پیدا کرتے ہیں۔سوضروری ہے کہ دو تین ہفتہ میرے پاس رہیں اور میں ہر ایک مناسب امرجیسا کہ مجھے یاد آتا جائے ان کی یادداشت میں لکھا دوں۔جس وقت آپ مناسب سمجھیں ان کو اس طرف روانہ فرما دیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ ۲۲ ستمبر ۱۸۹۹ء تک آپ قادیان میں ضرور تشریف لاویں گے۔زیادہ خیریت ہے۔۲۹ / اگست ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر 47، مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 250 تا 251)