فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 261
مجموعہ اشتہارات 261 فلسطین سے کشمیر تک قبول نہ کرنا یہ اور بات ہے لیکن کچھ شک نہیں کہ بھانڈا پھوٹ گیا اور یوز آسف کے نام پر کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ یہ نام یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔آسف بھی حضرت مسیح کا عبرانی میں ایک نام ہے جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے اور اس کے معنے ہیں متفرق قوموں کو اکٹھا کرنے والا۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 387 تا 388) ڈوئی کی اس پیشگوئی کا جواب جو اس نے تمام مسلمانوں کی ہلاکت کے لیے کی ہے (ستمبر 1902ء) یہ کس قدر قابل شرم جھوٹ ہے کہ وہ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گیا۔مگر اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ وہ صلیب پر مرا نہیں۔واقعات صاف گواہی دیتے ہیں کہ مرنے کی کوئی بھی صورت نہیں تھی۔تین گھنٹہ کے اندر صلیب پر سے اتارا گیا۔شدت درد سے بیہوش ہو گیا۔خدا کو منظور تھا کہ اس کو یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دے۔اس لیے اس وقت بباعث کسوف خسوف سخت اندھیرا ہو گیا یہودی ڈر کر اس کو چھوڑ گئے اور یوسف نام ایک پوشیدہ مُرید کے وہ حوالہ کیا گیا اور دو تین روز ایک کوٹھہ میں جو قبر کے نام سے مشہور کیا گیا رکھ کر آخرافاقہ ہونے پر ملک سے نکل گیا۔اور نہایت مضبوط دلائل سے ثابت ہو گیا ہے کہ پھر وہ سیر کرتا ہوا کشمیر میں آیا۔باقی حصہ عمر کا کشمیر میں بسر کیا۔سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔افسوس خوانخواہ افتراء کے طور پر آسمان پر چڑھایا گیا اور آخر قبر کشمیر میں ثابت ہوئی۔اس بات کے ایک دو گواہ نہیں بلکہ بیس ہزار سے زیادہ گواہ ہیں۔اس قبر کے بارے میں ہم نے بڑی تحقیق سے ایک کتاب لکھی ہے جو عنقریب شائع کی جائیگی مجھے اس قوم کے مشنریوں پر بڑا ہی افسوس آتا ہے جنہوں نے فلسفہ طبعی ، ہیت سب پڑھ کر ڈبودیا اور خواہ مخواہ ایک عاجز انسان کو پیش کرتے ہیں کہ اس کو خدا مان لو۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 568)