فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 260
مجموعہ اشتہارات 260 فلسطین سے کشمیر تک ہونے کی حالت میں داخل کیا گیا تھا تو اس صورت میں یونس سے اس کو کچھ مشابہت نہ تھی پھر دوسرا گواہ اس پر مرہم عیسی ہے۔یہ ایک مرہم ہے جس کا ذکر عیسائیوں اور یہودیوں اور مجوسیوں اور مسلمانوں کی طب کی کتابوں میں اس طرح پر لکھا گیا ہے کہ یہ حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کی چوٹوں کے لئے طیار کی گئی تھی اور یہ کتابیں ہزار نسخہ سے بھی کچھ زیادہ ہیں جن میں سے بہت سی میرے پاس بھی موجود ہیں۔پس اس مرہم سے جس کا نام مرہم عیسی ہے۔یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر جانے کا قصہ غلط اور عوام کی خود تراشیدہ باتیں ہیں۔سچ صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر وفات پانے سے تو بچ گئے تھے مگر آپ کے ہاتھوں اور پیروں پر زخم ضرور آئے تھے اور وہ زخم مرہم عیسی کے لگانے سے اچھے ہو گئے۔آپ کے حواریوں میں سے ایک ڈاکٹر بھی تھا غالبا یہ مرہم اُس نے تیار کی ہوگی چونکہ مرہم عیسی کا ثبوت ایک علمی پیرایہ میں ہم کو ملا ہے جس پر تمام قوموں کے کتب خانے گواہ ہیں۔اس لئے یہ ثبوت بڑے قدر کے لائق ہے۔تیسرا تاریخی گواہ حضرت مسیح کے آسمان پر نہ جانے کا یوز آسف کا قصہ ہے جو آج سے گیارہ سو برس پہلے تمام ایشیا یورپ میں شہرت پاچکا ہے۔یوز آسف حضرت مسیح ہی تھے جو صلیب سے نجات پا کر پنجاب کی طرف گئے اور پھر کشمیر میں پہنچے اور ایک سو برس کی عمر میں وفات پائی۔اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ یوز آسف کی تعلیم اور انجیل کی تعلیم ایک ہے اور دوسرے یہ قرینہ کہ یوز آسف اپنی کتاب کا نام انجیل بیان کرتا ہے تیسرا قرینہ یہ ہے کہ اپنے تئیں شہزادہ نبی کہتا ہے چوتھا یہ قرنیہ کہ یوز آسف کا زمانہ اور مسیح کا زمانہ ایک ہی ہے۔بعض انجیل کی مثالیں اس کتاب میں بعینہ موجود ہیں جیسا کہ ایک کسان کی مثال۔چوتھا تاریخی گواہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر وہ قبر ہے جواب تک محلہ خانیار سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یوز آسف شہزادہ نبی کی قبر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عیسی صاحب کی قبر ہے اور کہتے ہیں کہ کتبہ پر یہ لکھا ہوا تھا کہ شہزادہ اسرائیل کے خاندان میں سے تھا کہ قریباً اٹھارہ سو برس اس بات کو گزر گئے جب یہ نبی اپنی قوم سے ظلم اُٹھا کر کشمیر میں آیا تھا اورکوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا۔اور ایک شاگر د ساتھ تھا۔اب بتلاؤ کہ اس تحقیق میں کونسی کسر باقی رہ گئی۔سچائی کو