فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 259

مجموعہ اشتہارات 259 فلسطین سے کشمیر تک لیے لازم ہے کہ ان کی وداع کے لیے ایک مختصر سا جلسہ قادیان میں ہو اور ان کی خیر و عافیت اور ان کے متعلقین کی خیر و عافیت کے لیے دعائیں کی جائیں۔لہذا میں نے اس جلسے کی تاریخ ۱۲ نومبر ۱۸۹۹ مقرر کر کے قرین مصلحت سمجھا ہے کہ ان تمام خالص دوستوں کو اطلاع دوں جن کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی عید نہیں کہ جس کام کے لئے وہ اس سردی کے ایام میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر اور عیال اور دوستوں سے علیحدہ ہو کر جاتے ہیں اُس مراد کو حاصل کر کے واپس آئیں اور فتح کے نقارے اُن کے ساتھ ہوں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اے قادر خدا جس نے اس کام کیلئے مجھے بھیجا ہے ان عزیزوں کو فضل اور عافیت سے منزل مقصود تک پہنچا اور پھر بخیر وخوبی فائز المرام واپس آئیں۔آمین ثم آمین۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ میرے وہ عزیز دوست جو دین کے لئے اپنے تئیں وقف کر چکے ہیں حتی الوسع فرصت نکال کر اس جلسہ وداع پر حاضر ہوں گے اور اپنے ان مسافر عزیزوں کے لئے رو رو کر دعائیں کریں گے۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 316 تا 317) جناب بشپ صاحب کے لیکچر " زند و رسول پر کچھ ضروری بیان (*190025) تاریخ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر نہ جانے کے تین گواہ ایسے پیش کیے ہیں جن سے قطعی طور پر یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ بات صرف اتنی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے اس قول کے مطابق کہ ان کا قصہ یونس نبی کے قصے سے مشابہ ہے قبر میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل نہیں ہوئے تھے جیسا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل نہیں ہوا تھا اور نہ وہ قبر میں مرے جیسا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا تھا بلکہ یونس نبی کی طرح زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے کیونکہ ممکن نہیں کہ مسیح نے اس مثال کے بیان کرنے میں جھوٹ بولا ہو :۔اس واقعہ پر پہلا گواہ تو یہی مثال ہے کہ مسیح کے منہ سے نکلی کیونکہ اگر مسیح قبر میں مُردہ